BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 February, 2006, 08:49 GMT 13:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ونی :سپریم کورٹ میں سماعت

سپریم کورٹ
مقدمے کی پہلی سماعت دسمبر میں ہوئی تھی
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے جمعہ کو ’ونی‘ یا بدلہ صلح میں فریق مخالف کو رشتے میں لڑکیاں دینے کی روایت کے خلاف مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع کی۔

عدالت نے صوبہ پنجاب، صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات کے پولیس سربراہان کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ونی اور اس سے ملتی جلتی رسم سوارہ کے واقعات کی روک تھام کریں اور اپریل تک عدالت کو بتائیں کہ ان علاقوں میں ونی اور سوارہ کی رسموں کے تحت کتنی لڑکیوں کی شادیاں کی گئیں ۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے دو ماہ قبل دسمبر کے مہینے میں صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سماجی کارکن ثمر مناللہ کی درخواست پر ونی کی روایت جسے پشتون لوگ ’سوارہ‘ کہتے ہیں کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

 سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے دو ماہ قبل دسمبر کے مہینے میں صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سماجی کارکن ثمر مناللہ کی درخواست پر ونی کی روایت جسے پشتون لوگ ’سوارہ‘ کہتے ہیں کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جمعہ کو ثمر مناللہ کی طرف سے منصور علی خان نامی وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ونی اور سوارہ جیسی رسموں کا نوٹس لینے اور اس پر علاقے کے پولیس افسران کو کی گئی ہدایات کے باعث بہت سی لڑکیاں ان رسموں کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی ہیں۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس رسم کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور اس میں ملوث افراد کو سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ اس گھناؤنی رسم کا خاتمہ کیا جا سکے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ برس دسمبر میں اس معاملے کا اس وقت نوٹس لیا تھا جب میانوالی کی تین بہنوں نے ونی ہونے سے انکار کرتے ہوئے عہد کیا تھا کہ وہ اس رسم کی بھینٹ چڑھنے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیں گی۔

پنجاب کے ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والی ایم اے انگریزی کی طالبہ آمنہ نیازی، ان کی دو بہنوں اور دو کزنز کو تقریباً دس برس قبل اس وقت ونی قرار دیا گیا تھا جب وہ سب کم سن تھیں۔ آمنہ کے چچا اقبال پر قتل کا الزام تھا۔ قتل کے اس مقدمے میں پنچایت نے دونوں فریقین میں صلح کرائی تھی جس کی رو سے ملزم اقبال کے خاندان کی پانچ لڑکیوں کو مقتول کے خاندان میں بیاہنا طے پایا تھا۔

تاہم بالغ ہونے پر آمنہ سمیت پانچوں لڑکیوں نے پچھلے سال نومبر کے مہینے میں ونی ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ میانوالی کے نیم قبائلی معاشرے میں ونی جیسی مضبوط روایت کے خلاف لڑکیوں کی بغاوت کا معاملہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ذرائع ابلاغ کی توجہ کا موضوع بنا۔

آمنہ نیازی اور ان بہنوں کی بغاوت نے میانوالی میں کئی اور لڑکیوں میں ونی کی رسم کے خلاف انکار کی جرات پیدا کی اور عورتوں کے استحصال پر مبنی اس روایت کی سفاکی منظر عام پر آئی۔ آمنہ اور ان کی بہنوں کو اپنی اس جدوجہد میں اپنے والد جہان خان اور چچا اقبال کی بھی پوری حمایت حاصل تھی۔ دونوں بھائیوں نے فریق مخالف کو ونی کے تحت کیئے گئے رشتے ختم کرنے کے عوض زمین و جائیداد دینے کی پیشکش بھی کی جو نہ صرف ٹھکرا دی گئی بلکہ لڑکیاں ونی نہ کرنے کی صورت میں مبینہ طور پر خون خرابے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

اسی پس منظر میں پاکستانی حکومت نے بدلہ صلح میں لڑکیوں کے رشتے کرنے کے عمل کو قابل تعزیر جرم قرار دیتے ہوئے پہلے ہی ان علاقوں کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ اس رسم کے تحت لڑکیوں کی شادیاں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کسی بھی صورت ان لڑکیوں کی رخصتی نہ ہونے پائے۔

گو حکومت نے دعوی کیا ہے کہ اس رسم کے تحت شادیاں کروانے والے جرگوں کے افراد کودس سال قید سخت کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔تاہم ابھی تک پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی ونی یا سوارہ ہونے والی لڑکی کے اہل خانہ یا جرگوں کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی۔

’ونی‘ کا شکار آمنہ ونی یا زندہ درگور
’ونی‘ کا شکار آمنہ کی بی بی سی سے بات چیت
’واقعات میں اضافہ‘
ونی یا پولیس کی ’باہمی رضامندی‘
’ونی‘ کا نیا شکار
سلطان والا: شادی سے انکار، حالات کشیدہ
اسی بارے میں
ونی کا مقدمہ، سماعت شروع
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد