BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 February, 2006, 03:33 GMT 08:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ونی کا مقدمہ، سماعت شروع

اقبال خان
ونی کی رسم کے خلاف آواز اٹھانے والی لڑکیوں کا چچا اقبال
سپریم کورٹ آف پاکستان آج ’ونی‘ یا بدلہ صلح میں فریق مخالف کو رشتے میں لڑکیاں دینے کی روایت کے خلاف مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع کرے گی۔

سپریم کورٹ نے دو ماہ قبل دسمبر کے مہینے میں صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سماجی کارکن کی درخواست پر ونی کی روایت جسے پشتون لوگ ’سوارہ‘ کہتے ہیں کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے صوبہ سرحد اور پنجاب میں اس فرسودہ اور غیر انسانی روایت کے تحت کیئے گئے رشتوں کی تفصیلات طلب کی تھیں جس پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس (ریٹائرڈ) عبدالقیوم نے یہ تفصیلات اکھٹی کرنے کے لیئے عدالت سے دو ماہ کی مہلت مانگی تھی۔

دوبارہ سماعت کے لیئے چوبیس فروری کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے میانوالی کی ان تین تعلیم یافتہ بہنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی جنہوں نے ونی ہونے سے انکار کرتے ہوئے عہد کیا تھا کہ وہ اس رسم کی بھینٹ چڑھنے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیں گی۔

پنجاب کے ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والی ایم اے انگریزی کی طالبہ آمنہ نیازی، ان کی دو بہنوں اور دو کزنز کو تقریباً دس برس قبل اس وقت ونی قرار دیا گیا تھا جب وہ سب کم سن تھیں۔ آمنہ کے چچا اقبال پر قتل کا الزام تھا۔ قتل کے اس مقدمے میں پنچایت نے دونوں فریقین میں صلح کرائی تھی جس کی رو سے ملزم اقبال کے خاندان کی پانچ لڑکیوں کو مقتول کے خاندان میں بیاہنا طے پایا تھا۔

تاہم بالغ ہونے پر آمنہ سمیت پانچوں لڑکیوں نے پچھلے سال نومبر کے مہینے میں ونی ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ میانوالی کے نیم قبائلی معاشرے میں ونی جیسی مضبوط روایت کے خلاف لڑکیوں کی بغاوت کا معاملہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ذرائع ابلاغ کی توجہ کا موضوع بنا۔

آمنہ نیازی اور ان بہنوں کی بغاوت نے میانوالی میں کئی اور لڑکیوں میں ونی کی رسم کے خلاف انکار کی جرات پیدا کی اور عورتوں کے استحصال پر مبنی اس روایت کی سفاکی منظر عام پر آئی۔ آمنہ اور ان کی بہنوں کو اپنی اس جدوجہد میں اپنے والد جہان خان اور چچا اقبال کی بھی پوری حمایت حاصل تھی۔ دونوں بھائیوں نے فریق مخالف کو ونی کے تحت کیئے گئے رشتے ختم کرنے کے عوض زمین و جائیداد دینے کی پیشکش بھی کی جو نہ صرف ٹھکرا دی گئی بلکہ لڑکیاں ونی نہ کرنے کی صورت میں مبینہ طور پر خون خرابے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے دو ماہ قبل معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا

اسی پس منظر میں پاکستان کی موجودہ حکومت کی طرف سے بدلہ صلح میں لڑکیوں کے رشتے کرنے کے عمل کو قابل تعزیر جرم قرار دینے کا قانون اور اس کی خامیاں بھی موضوع بحث بنیں۔اس قانون کے تحت بدلہ صلح میں رشتے لینے اور دینے والے دونوں فریقوں کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہیں جس کے تحت دس سال قید سخت کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

لیکن ’آمنہ نیازی کیس‘ کی نوعیت مختلف تھی کیونکہ اس معاملے میں اب لڑکیوں کے والدین بھی ونی کی رسم کے تحت رشتے کرنے سے انکاری تھے۔ میانوالی کے ضلعی پولیس افسر زراعت کیانی اس امر کے پیش نظر اپنے بیانات میں اگرچہ اس بات کا برملا اظہار کرتے رہے کہ جہان خان اور ان کے بھائیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا جواز نہیں بنتا لیکن پولیس نے اس دوران خاموشی سے دونوں فریقوں کے خلاف ایک ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کر کے اسے سیل کر دیا۔

آمنہ کے والد جہان خان اس دوران اس خدشے کا اظہار کرتے رہے کہ پولیس والے ان کے خلاف انتقامی کارروائی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ انہیں ونی کے مسئلے کو ’اچھالنے‘ کا قصور وار سمجھتے ہیں۔ ونی کے مسئلے پر سپریم کورٹ کی طرف سے شروع ہونے والی کارروائی کی پہلی پیشی پر زراعت کیانی کو بھی طلب کیا گیا تھا لیکن انہوں نے آمنہ نیازی کے والد اور چچاؤں پر درج مقدمے کا ذکر نہ کیا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے نوٹس لیئے جانے اور پھر دو ماہ کی طویل پیشی دینے کے بعد ونی کے مسئلے پر سے ذرائع ابلاغ کی توجہ ہٹتے ہی پولیس نے جنوری کے مہینے میں پہلے سے درج ایف آئی آر پر کارروائی شروع کرتے ہوئے آمنہ نیازی کے چچاؤں اقبال خان اور رزاق خان اور دوسرے فریق اسلم خان کو حراست میں لے لیا جبکہ جہان خان کی گرفتاری کے لیئے کی گئی کوششیں کامیاب نہ ہو پائیں۔

ایک مقامی عدالت نے اسلم خان کو تو ضمانت پر رہا کر دیا لیکن اقبال خان اور رزاق کی طرف سے اس مقصد کے لیئے دائر کی گئی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ دونوں بھائی اس وقت بھی میانوالی کی جیل میں بند ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جہان خان کا کہنا تھا کہ حکومتی اداروں کی طرف سے ان کے ساتھ اس طرح کے سلوک کے بعد ونی کے خلاف اٹھنے والی آوازیں خاموش ہوتی نظر آرہی ہیں۔

غیر سرکاری ادارے پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی چئر پرسن عاصمہ جہانگیر اور ڈاریکٹر آئی اے رحمنٰ نے نئے سال کے آغاز پر پاکستان میں حقوق انسانی کے حوالے سے ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرتے وقت عدالتوں کے بارے تبصرہ کیا تھا کہ ونی اور ایسے دوسرے اہم سماجی مسائل کو چھوڑ کر پتنگ بازی اور شادیوں پر کھانا پیش کرنے جیسے معاملات کو زیادہ اہمیت دی گئی۔

سالنامہاجتماعی شرمندگی
پاکستان میں خواتین کے مسائل اور مشرف کا بیان
کوثر پروینقصورصرف بیٹی ہونا
میانوالی کی کوثر پروین پر ’ونی‘ میں کیا گزری
اقبال خان ونی رسم کے محافظ
ونی رسم: پولیس کارروائی سے کتراتی کیوں ہے؟
قاری ظفر اقبالرسم ونی اور شریعت
’جو تمہیں پسند ہو اس سے نکاح کرو‘ قرآن
اسی بارے میں
’ونی‘ کا حل نکالنے کی کوشش
13 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد