ونی: ’لڑکیوں کوتحفظ فراہم کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے جمعہ کوصوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد کے پولیس سربراہان کو ہدایات جاری کی ہیں کہ بدلہ صلح یا ونی کے تحت طے کی جانے والی شادیوں میں ان تمام لڑکیوں کو پولیس تحفظ فراہم کیا جائے جنہوں نے اس فرسودہ رسم کے تحت بالغ ہونے پر شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری کی زیر صدارت عدالت کے ایک فل بنچ نے صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی میں ونی قرار دی جانے والی پانچ لڑکیوں کو خصوصا تحفظ فراہم کرنے کی ہداہت جاری کی ہے جنہوں نے گذشتہ ماہ ونی ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے اس کیس کی سماعت اگلے برس فروری تک موخر کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ اگلی سماعت پر عدالت کو مطلع کیا جائے کہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد میں ونی کے کتنے کیس موجود ہیں۔ اس کیس میں عدالت کی معاونت کرنے والے وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہ ملک محمد قیوم نے ونی کے بارے میں اعداد و شمار اور تفصیلات اکٹھے کرنے کے لیے مہلت مانگی جس پر عدالت نے کیس اگلے برس فروری تک مؤخر کر دیا۔ وفاقی حکومت پہلے ہی ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر چکی ہے کہ ونی کی روایت کے تحت طے کیے گئے رشتوں کو کسی بھی صورت میں قانونی یا شرعی قرار نہیں دیا جانا چاہیے اور ضلعی انتظامیہ ان لڑکیوں کی رخصتی نہ ہونے دے۔ اسلام آباد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیلوفر بختیار نے بتایا کہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا حکم دیا ہے اور وفاقی حکومت مسلسل ضلعی حکومت سے رابطے میں ہے۔
وزیر اعظم کی مشیر کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایات پر دونوں خاندانوں کے پندرہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے بعد اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ نابالغ لڑکیوں کی ونی کے تحت شادی کی گئی ہے تو ان افراد پر مقدمہ چلا کر ان کو سزا دی جائے گی۔ وزیر اعظم کی مشیر کے مطابق گزشتہ سال پاکستانی پارلیمان نے غیرت کے نام پر قتل کے بارے میں جو قانون منظور کیا تھا اس میں ونی کا ذکر بھی ہے جس کی سزا دس سال قید تک مقرر کی گئی ہے۔ انیس سو اکیانوے میں سلطان والا کے سدروخیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے محمد زمان خان کو قتل کر دیا گیا تھا۔اس قتل کے الزام میں اسی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص محمد اقبال خان کو عدالت کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی جس کے بعد دونوں خاندانوں کی طرف سے مشترکہ طور پر ایک جرگہ بلایا گیا جس نے ملزم اقبال کو قتل معاف کرنے کے عوض اس کے خاندان کی طرف سے مقتول کے خاندان کو پانچ لڑکیوں کا رشتہ دینے کا فیصلہ سنایا۔
جرگے کے فیصلے کے مطابق آٹھ سالہ آسیہ، نو سالہ آمنہ، سات سالہ عابدہ، پانچ سالہ ساجدہ اور سات سالہ فاطمہ کا شرعی نکاح بالترتیب بارہ سالہ شیر عباس، آٹھارہ سالہ خان زمان، اٹھارہ سالہ اکرام اللہ، آٹھ سالہ الیاس خان اور نو سالہ محمد قاسم کے ساتھ کر دیا گیا تھا۔ تاہم ان لڑکیوں نے بالغ ہونے پر نکاح کو قانونی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک اور واقعے میں سال انیس سو اٹھاسی میں محمد نواز عظیم خیل نامی ایک شخص کو بکریاں چوری کرنے کے الزام میں پانچ افراد خضر حیات، محمد زمان، سلطان امیر، علی خان اور امان اللہ نے حملہ کر کے قتل کردیا تھا۔ مقدمہ ابھی زیر سماعت تھا کہ ملزموں نے صلح کی کوششیں شروع کردیں۔ جس کے بعد انیس سو نوے میں مقتول کے خاندان نے اس شرط پر ملزموں کو معاف کردیا کہ وہ تاوان میں ایک لاکھ ستر ہزار روپے اور پانچ لڑکیوں کے رشتے دیں گے۔ ملزموں کے خاندان میں دو لڑکیاں اس وقت بالغ تھیں جبکہ تین کم سن تھیں۔ بالغ لڑکیوں کو فوری طور پر ونی کردیا گیا جبکہ نابالغ لڑکیوں عصمت، تسلیم اور فوزیہ کے شرعی نکاح کردیے گئے تھے۔ تین سال قبل بھی میانوالی میں اباخیل قبیلے کی چھ لڑکیوں کے نکاح ونی کی رسم کے تحت کیے گئے تھے جنہیں بعد میں مقامی انتظامیہ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے لڑکیوں کو برآمد کروا کے ان کے قبیلے کے حوالے کیا تھا۔ | اسی بارے میں میانوالی:’ونی کے واقعات میں اضافہ‘28 November, 2005 | پاکستان ونی کے رشتے، مزید نو گرفتاریاں01 December, 2005 | پاکستان ونی مجرم بچ کیوں جاتے ہیں؟03 December, 2005 | پاکستان بھائی کی رہائی، تین بہنیں ’ونی‘06 December, 2005 | پاکستان ونی: تنسیخ نکاح سماج کو نامنظور08 December, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کا حل نکالنے کی کوشش13 December, 2005 | پاکستان ونی، ریپ اور جنرل مشرف کا بیان16 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||