BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 December, 2005, 02:46 GMT 07:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ونی‘ کا حل نکالنے کی کوشش

ونی کی شکار تین بہنیں
عابدہ، آمنہ اور ساجدہ نے ونی کیے جانے کی صورت میں خودکشی کی دھمکی دی ہے
خون بہا یا بدلہ صلح میں لڑکیوں کو ’ونی‘ کی روایت کے تحت تاوان کے طور پر مخالف خاندان کے مردوں کے نکاح میں دینے کے اوپر تلے کئی واقعات سامنے آنے کے بعد میانوالی کی ضلعی انتظامیہ نے صورتحال پر غوروخوض کے لیے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک اجتماع کیا ہے۔

ضلع کونسل ہال میں ہونے والے اس اجلاس میں مقامی حکومتوں کے نمائندوں، پولیس، انتظامی افسران، وکلاء، اخبار نویسوں اور کالج و سکولوں کے اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا تا کہ ’مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے‘۔

میانوالی کے ضلع ناظم عبیداللہ شادی خیل ونی کے واقعات کی تفصیلات میڈیا میں تواتر کے ساتھ آنے پر خاصے پریشان تھے۔ اپنے خطاب میں صحافیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا ’حد ہوگئی ہے‘ میڈیا نے میانوالی کا ’امیج‘ تباہ کر دیا ہے۔ ’ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ جیسے یہاں کھلے عام لڑکیوں کا لین دین ہوتا ہے‘۔

ان کا دعویٰ تھا کہ دو ہزار دو میں سامنے آنے والے اباخیل میں ہونے والے ونی کے واقعے کے بعد سے کوئی نیا واقع سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ اباخیل کے علاقے میں چار افراد کو پھانسی کی سزا سے بچانے کے لیے ملزم فریق نے اسی لاکھ روپے اور آٹھ لڑکیاں تاوان میں دینے کا معاہدہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ خون بہا میں رشتہ دینے کی ونی کی روایت کو قابل سزا جرم قرار دینے کے بعد چند روز قبل جو پہلا مقدمہ درج کیا گیا تھا اس کے مطابق واں بھچراں کے علاقے میں اس سال چھ اگست کو ہونے والے قتل کے ایک پچاس سال پرانے واقعے سے پیدا ہونے والی رنجش کے خاتمے کے لیے پانچ اور تین سال عمر کی دو لڑکیوں کو ونی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

عبیداللہ شادی خیل نے یہ تسلیم کیا کہ ونی ہونے والی نوے فیصد لڑکیوں کے ساتھ سسرال میں اچھا سلوک نہیں ہوتا اور انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ونی کے تمام پرانے معاملات کو قانون کے مطابق نمٹانے کے لیے یونین کونسل کی سطح پر عوامی نمائندوں، علماء کرام، معززین علاقہ اور پولیس افسروں پر مشتمل کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں۔

تحصیل ناظم امجد خان نیازی کا کہنا تھا کہ ونی کی روایت صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھی رائج ہے لیکن بدنام صرف میانوالی کو کیا جارہا ہے۔

ضلعی رابطہ افسر ذوالفقار علی طور کا کہنا تھا کہ عام طور پر کمزور مالی حیثیت کے لوگ تنازعات خصوصاً قتل اور غیرت کے معاملات میں صلح کے لیے بیٹیوں کو ونی کر دیتے ہیں کیونکہ وہ تاوان میں کوئی اور ’چیز‘ دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

قانونی امور کے ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو آفیسر سردار نیازی کا کہنا تھا کہ ونی کی روایت کے تحت کیے گئے رشتوں کو طاقت کے زور پر ختم کرنے سے دشمنیاں دوبارہ سر اٹھا لیں گی اور قتل و غارت گری کا ایک نا ختم ہونے والا سلسہ شروع ہوجائےگا۔ ان کا اصرار تھا کہ لڑکیوں اور لڑکوں کے والدین اگر رشتوں پر راضی ہوں تو پھرکسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

میانوالی گرلز کالج کی پرنسپل منزہ عالم کا کہنا تھا کہ ونی کی روایت کو غیر قانونی اور قابل سزا جرم قرار دینے والے قانون پر بھرپور طریقے سے عمل کیا جائے اور ونی ہونے والی لڑکیوں جن کی ابھی رخصتی ہونا باقی ہے کے مجوزہ شوہروں کو پولیس کے ذریعے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے۔

میانوالی کالج میں شعبہ انگریزی کے سابق سربراہ پروفیسر سرور نیازی کا کہنا تھا کہ ونی کی روایت بہت پرانی ہے اور اسے رواج دینے والوں کا تصور یہ تھا کہ رشتے ناطے ہوجانے سے دشمنیاں ختم ہوجائیں گی لیکن بعد میں دشمنوں سے انتقام لینے کے لیے ان کی ونی ہو کر آنے والی بیٹیوں کو ایذا پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ انہوں نے علماء کرام سے درخواست کی کہ وہ آگے بڑھ کر اس رسم کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

علماء کرام کی نمائندگی کرتے ہوئےصاحبزادہ خیر محمد (پیر آف بھور شریف) اور صاحبزادہ عبدالمالک کا کہنا تھا کہ آنحضرت اور خلفائے راشدین کے ادوار سے کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں کسی عورت کو خون بہا تاوان کے طور پر دیا گیا ہو۔ چنانچہ انہوں نے ونی کی رسم کو مکمل طور پر غیر اسلامی قرار دیا۔ تاہم انہوں نے ونی ہونے والی لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ بچپن میں پڑھائے گئے شرعی نکاحوں کی تنسیخ کے لیے عدالتوں سے رجوع کریں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ضلعی رابطہ افسر ذوالفقار طور نے کہا کہ ونی کی روایت پر پردہ ڈالنے کی بجائے اسے ایک سماجی برائی تصور کرتے ہوئے ختم کرنے کا لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہیے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد