ونی: تنسیخ نکاح سماج کو نامنظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خون بہا یا بدلہ صلح میں ’ونی‘ قرار دی جانے والی لڑکی اگر زبردستی کی اس شادی سے انکار کردے تو پھر اس سے کوئی دوسرا مرد بھی شادی نہیں کرتا چاہے مفتی خصرات ونی کے دستور کے تحت ہونے والے ’شرعی نکاح‘ کو باطل قرار دیں یا عدالتیں اسے منسوخ کردیں۔ ونی تاوان میں جس مرد سے منسوب ہوجائے اگر وہ منہ سے تین دفعہ طلاق دے گا تو معاشرہ قبول کرے گا اور تب جا کر اس لڑکی کی کسی اور جگہ شادی ہونے کا امکان پیدا ہوگا۔ میانوالی میں ونی قرار دی جانے والی کئی لڑکیاں عدالتوں سے تنسیخ نکاح کے حکم لیے رشتوں کی تلاش میں منتظر بیٹھی ہیں۔ داؤد خیل کے امان اللہ خان نے جائیداد کے تنازعے پر سال انیس سو پچاسی میں اپنے ایک مخالف کو قتل کر دیا۔ انیس سو ستاسی میں جب وہ جیل میں تھے تو ان کے والد نے ان کی دو بیٹیوں چار سالہ کلثوم اور تین سالہ نصرت کو ونی کرنے کے عوض مخالفین سے صلح کر لی۔ امان اللہ کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی صلح کے خلاف تھے لیکن باپ کے فیصلے کو ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کلثوم بی اے کرنے کے بعد اب بی ایڈ کر رہی ہے جبکہ نصرت بی اے فائنل کی طالبہ ہے۔ ونی کے دستور کے تحت انہیں جن لڑکوں سے منسوب کیا گیا تھا وہ دونوں اب ہیروئن کے نشئی ہیں۔
دونوں بہنوں نے بالغ اور تعلیم یافتہ ہونے پر ونی ہونے سے انکار کیا تو امان اللہ نے بھی ان کی تائید کی۔ رشتوں سے انکار پر دوسرے فریق نے لڑکیوں کی رخصتی کے لیے مقامی عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔ امان اللہ بتاتے ہیں کہ دوسرا فریق کسی بھی پیشی پر عدالت نہ آیا جب کہ وہ کافی عرصہ عدالتوں میں دھکے کھاتے رہے۔ بعد میں عدالت نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے تنسیخ نکاح کا حکم جاری کردیا۔ امان اللہ کے مطابق نکاح ختم ہوجانے کے باوجود ان کی بیٹیوں سے کوئی شادی کرنے کو تیار نہیں۔ ’میں نے اپنے بھائی کو بھی کہا ہے کہ میری بیٹیوں کو بہو بنا لو لیکن وہ بھی کتراتا ہے، کہتا ہے دوسرے لوگ طلاق دیں گے تو پھر وہ سوچے گا‘۔ امان اللہ نے بتایا کہ ان کی بیٹیوں کے تو ’شرعی نکاح‘ بھی نہیں ہوئے۔ بس ان کے والد نے صلح کے وقت دو لڑکیاں دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان سے کہا گیا کہ جب نکاح ہی نہیں ہوئے تو پھر طلاق کیسی، تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں تو یہ بات کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں لیکن کوئی میری سنتا ہی نہیں‘۔ ونی جیسی غیر انسانی روایت کے خلاف آواز بلند کرنے والی آمنہ نیازی کے والد جہان خان کو بھی یہی اندیشہ ہے کہ اگر فریق مخالف نے منہ سے طلاق نہ دی تو پھر ان کی بیٹیوں سے بھی کوئی شادی کرنے کو راضی نہیں ہوگا۔ انہوں نے جب ایک بہت بڑے مفتی کا فتویٰ دکھایا کہ ’طمع یا لالچ میں کیا گیا نکاح نہیں ہوتا‘ تو ان سے پوچھا گیا کہ پھر وہ طلاقوں کے لیے اتنا اصرار کیوں کررہے ہیں جبکہ علمائے کرام کا یہ بھی کہنا ہے کہ کم سنی میں پڑھائے گئے نکاح سے لڑکی اگر بالغ ہونے پر انکار کردے تو یہ نکاح خودبخود ختم ہوجاتا ہے اور طلاق لینے کی ضرورت نہیں رہتی تو جہان خان کا کہنا تھا: ’لیکن لوگ اس بات کو نہیں مانیں گے، یہ رواج کی بات ہے، قانون اور مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ونی کے جتنے بھی واقعات سامنے آرہے ہیں ان سب میں حکومت کو مداخلت کرکے اسی طرح طلاقیں کرانا پڑیں گی جیسا کہ تین برس قبل ابا خیل کے واقعے میں کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ میانوالی کے علاقے ابا خیل میں تہرے قتل کے جرم میں موت کی سزا پانے والے چار افراد کو بچانے کے لیے ایک جرگے نے تاوان میں اسی لاکھ روپے اور آٹھ لڑکیاں ونی کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ ونی ہونے والی لڑکیوں میں سے ایک کی عمر ڈیڑھ برس تھی جبکہ سولہ سالہ لڑکی کا نکاح ایک ستر سالہ آدمی کے ساتھ پڑھایا گیا تھا۔ جرگے کے ارکان میں نواب آف کالا باغ اور علاقے میں’روحانیت‘ کی دو بڑی گدیوں بلوٹ شریف اور بھور شریف کے جانشین بھی شامل تھے۔ تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے اخباری اطلاعات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی فوری چھان بین کرائی اور پھر بعد میں پولیس نےدباؤ ڈال کر ونی کی رسم کے تحت کیے گئے رشتے ختم کرائے تھے۔ |
اسی بارے میں ’کم عمری کا نکاح ختم ہو سکتا ہے ‘06 December, 2005 | پاکستان بھائی کی رہائی، تین بہنیں ’ونی‘06 December, 2005 | پاکستان میانوالی:’ونی کے واقعات میں اضافہ‘28 November, 2005 | پاکستان ’ونی، زندہ درگور ہونے والی بات ہے‘24 November, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کی شادی پر حالات کشیدہ22 November, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کا ایک اور شکار01 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||