’کم عمری کا نکاح ختم ہو سکتا ہے ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنمنٹ ڈگری کالج میانوالی میں اسلامی تعلیمات کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ کسی لڑکی کا کم عمری میں نکاح تو پڑھایا جا سکتا ہے لیکن اگر بالغ ہونے پر وہ اسے تسلیم نہ کرے تو یہ نکاح خود بخود ختم ہوجاتا ہے اور لڑکی کو اس ’بندھن‘ سے آزاد ہونے کے لیے کسی طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پروفیسر قاری محمد ظفر اقبال کالج میں پڑھانے کے علاوہ ’زینت الاسلام‘ نامی دینی مدرسے کے مہتمم بھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ والد کی طرف سے پڑھوایا گیا نابالغ لڑکی کا نکاح ہو جاتا ہے اور دین اسلام میں اس کی ممانعت نہیں کی گئی۔ بلکہ آنحضور کا حضرت عائشہ سے نکاح اس امر کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا تاہم بالغ ہونے پر لڑکی اس حوالے سے بااختیار ہوتی ہے کہ وہ چاہے تو نکاح کو برقرار رکھے یا مسترد کردے۔ برقرار رکھنے پر بچپنے میں پڑھایا جانا والا نکاح ہی قائم رہے گا لیکن انکار کی صورت میں باقاعدہ طلاق لینے کی ضرورت ہرگز نہیں۔ صرف چند گواہوں کے سامنے اس بات کا اظہار کرنا ہی کافی ہے۔ انہوں نے قرآن کی ایک آیت پڑھنے کے بعد اس کا ترجمہ کچھ یوں کیا ’جو تمہیں پسند ہو اس سے نکاح کرو‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکم لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے ہے۔ قاری ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ اسلامی شریعت میں عورت کو مکمل تحفظ، احترام اور عزت حاصل ہے اور اس کی اجازت کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ خون بہا یا بدلہ صلح میں بیٹیوں کو ’ونی‘ کرنے کی روایت کو معاشرے کا ناسور قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذہب میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان سے جب کہا گیا کہ لڑکیوں کے کم عمری میں کیے گئے ’شرعی نکاح‘ بہر حال مولوی حضرات پڑھاتے جو امامت بھی کرتے ہیں اور خطبے بھی دیتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ دیہاتوں میں ایسے کم علم مولوی مذہبی معاملات کے ذمہ دار بنے بیٹھے ہیں جو طبیعتاً کمزور ہوتے ہیں اور علاقے کے بااثر لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔ خلاف شریعت رسوم کو رواج دینے کے الزام میں کسی مولوی کے خلاف دینی حلقوں کی طرف سے کارروائی کے سوال پر ان کا مؤقف تھا کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ایسے مولویوں کو مساجد کے منبر سے ہٹائیں۔ ’علمائے حق صرف زبان سے انہیں برا کہہ سکتے ہیں‘۔ قاری صاحب کو جب بتایا گیا کہ جو لوگ ونی کے دستور کے تحت شرعی نکاح پڑھاتے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ’جید علماء‘ کے فتووں کی روشنی میں کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ قرآن کے واضع احکامات کی موجودگی میں کہ ’لڑکی کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا‘ پتہ نہیں یہ کون لوگ ہیں جو لڑکیوں کے ’جبری نکاح‘ کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’ہم خود کو زندہ جلا لیں گے‘05 December, 2005 | پاکستان میانوالی:’ونی کے واقعات میں اضافہ‘28 November, 2005 | پاکستان ونی کے رشتے قانونی نہیں: حکومت29 November, 2005 | پاکستان ’ونی، زندہ درگور ہونے والی بات ہے‘24 November, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کی شادی پر حالات کشیدہ22 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||