BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 February, 2006, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسانی حقوق کمیشن رپورٹ کا اجراء
عاصمہ اور آئی اے رحمن
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ایک کروڑ کم سن بچے نوکری کرتے ہیں
پاکستان کے غیر سرکاری انسانی حقوق کے کمیشن ایچ آر سی پی نے سنیچر کو جاری کی جانے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں سن دو ہزار پانچ میں رونما ہونے والے سیاسی، سماجی اور معاشرتی امور کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔

رپورٹ سے واضح ہوتاہے کہ اگرچہ حکومت نے انسانی حقوق کے مختلف پہلوؤوں کو تسلیم کرتے ہوئے زیادتیوں کی روک تھام کے لیے کچھ قوانین تو بنائے لیکن ان پر عمل در آمد نہیں ہو پایا اور نہ ہی ملک کے نچلے اور پسماندہ طبقوں کو تحفظ مل سکا۔

اسلام اباد میں رپورٹ جاری کرنے کے موقع پر اس کے اہم اور چیدہ چیدہ نکات بیان کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کی سربراہ عاصمہ جہانگیر اور تنظیم کے ڈائریکٹر آئی اے رحمن نے انسانی حقوق کے تناظر میں ملک کی سماجی اور سیاسی صورت حال کا جائزہ پیش کیا۔

آئی اے رحمن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کا گزشتہ سالوں کے حالات سے اگرموازنہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اگر اہم شعبوں میں اگر مزید خرابی نہیں ہوئی تو حالات میں بہتری بھی نہیں ہو پائی۔

رپورٹ میں پیش کیے گئے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے خاص طور سے عدلیہ، خواتین کی تعلیم، بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے حالات اور خواتین کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ ونی اور دیگر رسموں کے نام پر خواتین کے خلاف ہونے والی معاشرتی زیادتیوں کے واقعات کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا لیکن آئی اے رحمن کے کہنے کے مطابق انہیں پھر منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔

رپورٹ میں خواتین کی حالت زار کو موضوع بحث بنایا گیا ہے

کمیشن کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس عرصے میں عدالت عظمٰی کی توجہ کا بڑا مرکز پتنگ بازی اور شادی کا کھانا جیسے امور رہے نہ کہ ملک کے زیادہ اہم واقعات۔

کمیشن کی رپورٹ میں عدلیہ کے علاوہ حکومت کی کارکردگی، لاقانونیت کی صورت حال، دہشت گردی کے مبینہ الزام میں لوگوں کی گرفتاری یا گمشدگی سے لے کر آزادی اظہار اور مذہبی آزادی کے معاملات پہ تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نومبر دو ہزار چار سے اگست دو ہزار پانچ تک ملک میں تین سو چھیاسٹھ خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کی گئی جبکہ اکہتر بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ایک کروڑ کم سن بچے نوکری کرتے ہیں جبکہ ستر ہزار کے قریب سڑکوں پہ زندگی بس کر رہے ہیں۔

اس موقع پر انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ اس تمام عرصے میں جب سے کمیشن سالانہ رپورٹ شائع کررہا ہے حکومت کی سوچ میں بہت زیادہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

رپورٹ
 کمیشن کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس عرصے میں عدالت عظمٰی کی توجہ کا بڑا مرکز پتنگ بازی اور شادی کا کھانا جیسے امور رہے نہ کہ ملک کے زیادہ اہم واقعات۔

عاصمہ کا کہنا تھا کہ ’جیسا کہ ہم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ صرف علامات نہیں دیکھنا چاہیے یہ بھی دیکھنا چاہیں کہ کیا ملک میں کوئی ایسی مشینری ہے جوکہ ان مسائل کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو ہم نے یہ دیکھا کہ ملک میں کوئی نظام موجود نہیں ہے اور جہاں پر خلاف ورزیاں ہوتی بھی ہیں وہاں پہ لوگوں کے آنسو بھی نہیں پونچھے جاتے ہیں‘۔

اس سوال پر کہ ہر سال اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے تو عاصمہ کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو کم از کم یہ پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔

انسانی حقوق کی اس رپورٹ پر ابھی حکومت کی جانب سے کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

عاصمہ جہانگیردھاندلی کا الزام
انتخابات پر انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ
اسی بارے میں
’کیس کچھ کمزور ہے‘
30 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد