چار کو سزائے موت، تین کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی ایک عدالت نے موجودہ وزیرِ اعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث چار افراد کو سزائے موت دی ہے جبکہ تین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ شوکت عزیز پر دو ہزار چار میں اس وقت خود کش حملہ ہوا تھا جب انہیں وزیرِ اعظم نامزد کر دیا گیا تھا اور وہ ایک انتخابی ریلی کے بعد واپس اسلام آباد جا رہے تھے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جس وقت فیصلہ سنایا اس وقت انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیئے گئے تھے۔ سزا پانے والے افراد کے پاس اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیئے سات دن کی مہلت ہے۔ اس حملے میں شوکت عزیز بال بال بچ گئے تھے لیکن آٹھ دیگر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے تب کہا تھا کہ شوکت عزیز خوش قسمت ہیں کہ وہ بچ گئے۔ خیال ہے کہ دو خودکش بمباروں میں سے ایک کے پاس جو دھماکہ خیز مواد تھا جسے اس نے شوکت عزیز کی گاڑی پر حملے کے لیئے استعمال کرنا تھا، کسی نقص کی وجہ سے غیر مؤثر ہوگیا تھا۔ البتہ ان کی گاڑی کا اگلا دروازہ دھماکے سے تباہ ہوگیا تھا اور ان کے ڈرائیور اور ایک اور شخص ہلاک ہوگئے تھے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نہ صرف وزیرِ اعظم شوکت عزیز پر بلکہ صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے چند متعمدین پر کئی حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ملک سے القاعدہ کے شدت پسندوں اور ان کے طرف داروں کو باہر نکالنے کے لیئے کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ جن سات افراد کو سزا سنائی گئی ہے ان میں سے تین پر الزام تھا کہ انہوں نے خود کش حملہ آوروں کو پناہ دی تھی اور حملے کی منصوبہ بندی اور اس میں معاونت کی تھی۔ البتہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ جن افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے ان پر کیا الزامات عائد کیئے گئے تھے۔ جن تین افراد کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے وہ رشتے میں بھائی ہیں۔ | اسی بارے میں شوکت عزیز پر خود کش حملہ30 July, 2004 | پاکستان شوکت عزیز پر حملہ، کئی گرفتار04 August, 2004 | پاکستان ’شوکت پر حملہ بھی القاعدہ نے کیا‘31 July, 2004 | پاکستان شوکت: سخت سکیورٹی انتظامات31 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||