سپاہ صحابہ کارکن کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے کالعدم سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم محمد اسلم عرف اسلم معاویہ کو چھ بار سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔ سوموار کو یہ فیصلہ کوٹ لکھپت جیل میں مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج مقرب خان نے دیا۔ یہ مقدمہ گیارہ سال پہلے مارچ انیس سو پچانوے میں جھنگ میں فائرنگ کے ایک واقعہ سے متعلق تھا۔ اس واقعہ میں مولانا عبدالکریم کی نماز جنازہ سے واپس آنے والے افراد پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں فائرنگ سے شیخ اقبال، حسین شاہ امام، باسط نذیر، ملک زاہد، شہباز اور عبدالرحمان افراد ہلاک اور تین افراد زخمی ہوگئے تھے۔ جج نے محمد اسلم کو سزائے موت کے ساتھ ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے اور واقعہ میں زخمی ہونے والوں کو دس دس ہزار روپے ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ اس مقدمہ میں محمد اسلم کے ساتھ سپاہ صحابہ کے سابق سربراہ مولانا اعظم طارق، شیخ حاکم علی، عبدالمالک، محمد نواز، منیر احمد اور محمد صدیق بھی ملزمان تھے۔ اعظم طارق قتل کیئے جاچکے ہیں اور محمد صدیق مفرور ہیں۔ جج نے باقی تمام ملزمان کو بری کردیا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد فرقہ وارانہ تشدد کے حوالہ سے جانے والے شہر جھنگ میں پولیس نے حفاظتی اقدامات سخت کردیئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’کالعدم تنظیموں کے ارکان کو روکیں‘10 August, 2005 | پاکستان اکرم لاہوری مقدمہ قتل سے بری30 November, 2005 | پاکستان کالعدم تنظیموں پرکھالوں کی پابندی 07 January, 2006 | پاکستان کالعدم تنظیم کے 40 کارکن گرفتار02 April, 2006 | پاکستان کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما رہا19 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||