’کالعدم تنظیموں کے ارکان کو روکیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی محکمہ داخلہ نے اس رپورٹ کا سخت نوٹس لیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے عہدیدار اور کارکن بھی بلدیاتی انتخابات میں بطور امیدوارکھڑے ہوگئے ہیں اور صوبائی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ فوری کارروائی کریں۔ وفاقی محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ یہ واضح ہدایا ت موجود ہیں کہ ایسے افراد الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ نیشنل کرائسسز منیجمنٹ سیل نے حکومت پنجاب کو بھجواۓ اپنے ایک مراسلے میں ان ایک سو پانچ امیدواروں کی نشاندہی کی ہے جو بلدیاتی انتخابات میں اپنے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد زور و شور سے انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ان میں ناظم اور نائب ناظم کے تریپن امیداور ہیں باقی کونسلر کی نشستوں سے الیکشن لڑرہے ہیں۔ رپورٹ میں امیداوروں کے نام یونین کونسلیں ان کالعدم تنظیموں نام درج ہیں جن کے وہ عہدیدار یا کارکن رہے ہیں سے ان کا تعلق بتایا جاتا ہے۔ یہ تنظیمیں سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، لشکر طیبہ اور تحریک جعفریہ ہیں۔ اس رپورٹ میں جس کی ایک ایک کاپی پنجاب کے سیکرٹری داخلہ اور صوبائی پولیس سربراہ کو بھجوائی گئی ہے کہا گیا ہے کہ ان امیداواروں میں سےکئی ان کالعدم تنظیموں کے عہدیدار رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ حکام اس سلسلہ میں الیکشن کمشن سے رابطے کے بعد قانون کے تحت کارروائی کی جاۓ۔ پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی مختلف تنظیموں کے بعض سابق عہدیدار ماضی میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں جبکہ چند ایک تو اب بھی پارلیمان کے رکن ہیں۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی حالیہ رپورٹ میں یہ تو کہا گیاہے کہ انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے لیکن کسی قانون کی شق کا حوالہ نہیں دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صوبائی حکومت ان امیدواروں کو الیکشن میں حصہ لینے سے کیسے روک پائےگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||