شیعہ رہنما کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے کالعدم شیعہ تنظیم سپاہ محمد کے سربراہ غلام رضا نقوی کو ایک بارہ سال پرانے مقدمۂ قتل میں دو بار سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔ غلام رضا نقوی پر سنہ انیس سو چورانوے میں مخالف تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ اعظم طارق پر سرگودھا میں قاتلانہ حملہ کرنے کا الزام تھا۔ اس حملہ میں اعظم طارق تو بچ گئے تھے لیکن ان کے دو ساتھی محمد امتیاز اور محمد شاہد ہلاک ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ بعد ازاں اکتوبر سنہ دوہزار تین میں اعظم طارق اسلام آباد کے پاس ایک قاتلانہ حملہ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ عدالت نے اس مقدمہ میں غلام رضا نقوی کے ساتھ ایک اور ملزم شبر عباس کو بھی دو بار سزائےموت دی ہے جبکہ دس دوسرے شریک ملزموں کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ ملزمان پہلے ہی ضمانت پر رہا ہوچکے تھے۔ | اسی بارے میں سپاہ صحابہ کارکن کو سزائے موت12 June, 2006 | پاکستان کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما رہا19 April, 2006 | پاکستان علامہ ساجد نقوی کی رہائی کا حکم27 November, 2004 | پاکستان ممنوعہ تنظیمیں: کون کیا ہے؟22 November, 2003 | پاکستان مولانا کے خلاف مقدموں پر ایک نظر07 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||