علامہ ساجد نقوی کی رہائی کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے مولانا اعظم طارق قتل کیس میں علامہ ساجد نقوی کو دو ساتھیوں سمیت باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج منظور احمد مرزا نے سنیچر کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اندر سنایا۔ عدالت کے مطابق نامزد ملزمان کے خلاف استغاثہ ٹھوس شہادتیں پیش نہیں کرسکا۔ کالعدم مذہبی جماعت سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا اعظم طارق کو گزشتہ سال اکتوبر میں اسلام آباد میں چار محافظوں سمیت اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آرہے تھے۔ مقدمے کے مطابق قتل کے منصوبہ ساز شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے علامہ ساجد نقوی، نواب امان اللہ سیال اور سبطین نقوی کو قرار دیا گیا تھا جبکہ قتل کرنے والوں کے طور پر حسین شاہ کاظمی اور رضوان علی کو نامزد کیا گیا تھا۔ سبطین نقوی اور رضوان علی مفرور رہے لیکن علامہ نقوی، نواب امان اللہ سیال اور حسن شاہ کو نومبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ علامہ نقوی اور سیال ضمانت پر رہا ہوگئے تھے جبکہ حسن شاہ اب بھی جیل میں ہیں۔ سنیچر کے روز تمام ملزمان کی موجودگی میں عدالت نے فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے علامہ نقوی نے کہا کہ انہیں بے حد خوشی ہے کہ وہ باعزت بری ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ اعظم طارق کے قتل سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے شیعہ مسلک کے علامہ ساجد نقوی کی جماعت تحریک اسلامی پاکستان اور سنی مسلک کے مولانا اعظم طارق کی جماعت ’سپاہ صحابہ پاکستان‘ کو حکومت پُر تشدد فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام کی بنا پر کا لعدم قرار دے دیا تھا اور دونوں نے بعد میں دیگر ناموں سے جماعتیں بنائیں۔ مولانا اعظم طارق صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ سے آزاد حیثیت میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ بعد میں وہ حکومتی اتحاد میں شامل ہوگئے تھے۔ نواب امان اللہ خان سیال ان کے سیاسی حریف تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||