BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 October, 2003, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولانا اعظم طارق ہلاک
مولانا اعظم طارق
مولانا پر اس سے پہلے بھی کئی حملے ہو چکے ہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے قریب نامعلوم افراد نے پیر کو ایک گاڑی پر حملہ کرکے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا اعظم طارق سمیت پانچ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

اگرچہ ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس واقعہ کو بھی طویل عرصے سے جاری فرقہ وارانہ تشدد ہی کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کے مطابق ان پانچ افراد نے محصول چنگی عبور کرتے ہی اپنی گاڑی کی رفتار میں اضافہ کردیا تھا کہ پہلے سے کھڑی ایک اور گاڑی نے ان کا تعاقب شروع کیا اور جلد ہی ان کی گاڑی کو جالیا۔

تعاقب میں آنے والی اس گاڑی سے اترنے والے تین افراد نے مولانا اعظم طارق کی گاڑی پر خودکار ہتھیاروں کے ذریعے سامنے سے گولیاں برسانی شروع کیں جس سے پانچوں افراد مارے گئے۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کہ وہ واردات کی وجہ بتاسکے اسے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کرنی پڑے گی۔

تاہم اس دوران شدت پسند سنّی پر تشدد سنّی تنظیم سپاہ صحابہ کے حامی ہسپتال کے اس مردہ خانے کے باہر جمع ہوگئے جہاں لاشوں کو لے جایا گیا ہے۔ ان حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے لوگ مارے گئے ہیں۔

اس سرکاری گاڑی پر سرکاری نمبر درج تھا جس طرح کے نمبر حکام یا ارکان پارلیمان کو جاری کئے جاتے ہیں۔ اب تک کسی نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی کی سرکاری گاڑی پر اسلام آباد کے مضافات میں حملہ ہوا۔

ان کی نئی ملت اسلامیہ جو ماضی میں سپاہ صحابہ پاکستان کے نام سے جانی جاتی تھی، کے ایک رکن اور اعظم طارق کے ذاتی معاون مولانا راشد فارقی نے بتایا کہ حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعظم طارق کی لاش انہوں نے خود شناخت کی ہے۔

مولانا فاروقی نے رائٹرز کو بتایا کہ اعظم طارق سرکاری ٹیوٹا کرولا میں اسلام آباد آ رہے تھے جس کا نمبر( اے ڈی وی ۔تین تین تین ) تھا۔ عینی شاہدوں نےیہی گاڑی جائے واردات پرگولیوں سے چھلنی حالت میں دیکھی۔

سرکاری سطح پر ابھی تک مولانا اعظم طارق کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

سن دو ہزار دو میں کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق کو تیرہ مہینوں کی نظربندی کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

رہائی کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا اعظم طارق نے کہا تھا کہ وہ آزاد امیدوار کے طور پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور ان کی ذاتی رائے ہے کہ وہ پارلیمان میں آزاد رکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں گے۔

اعظم طارق نے کہا تھا کہ ان کا لشکر جھنگوی سے کوئی تعلق نہیں اور جہاں تک طالبان کی حمایت کا تعلق ہے تو نظر ثانی بورڈ کے ججوں کے بقول متحدہ مجلس عمل نے تو انتخابات ہی اس حمایت کی بنیاد پر جیتے ہیں۔

سپاہ صحابہ کے سربراہ نے کہا کہ وہ اسمبلی میں فرقہ وارانہ فساد خاص طور پر شیعہ سنی فساد کے خاتمہ کے لیے مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں گے اور ان کی تجویز ہے کہ اسمبلی کی اس معاملے پر ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس فساد کی وجوہات اور اسباب کا تعین کرے تاکہ مستقل بنیادوں پر فرقہ وارانہ قتل وغارت کا خاتمہ ہو سکے۔

اعظم طارق نے کہا تھا کہ شیعہ اور سنی فرقوں کے اختلافات تو صدیوں سے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے لیکن فساد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد