گوجرانوالہ: تین افراد کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوجرانوالہ سینٹرل جیل میں منگل کی صبح دو بھائیوں سمیت ان تین افراد کو پھانسی دے دی گئی جن کی سزا پر عمل درآمد چار مرتبہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔ ان افراد پر نو سال پہلے جون سنہ انیس سو ستانوے میں گوجرانوالہ چھاؤنی میں پانچ افراد کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ پھانسی پانے والوں میں الیاس پٹواری، اس کا بھائی غلام عباس اور ایک قریبی رشتے دار محمد آصف شامل ہیں۔ گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ان تینوں افراد کے بلیک وارنٹ جاری کیے تھے۔ اسی عدالت نے ان تینوں کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت بھی سنائی تھی۔ بعد میں لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا۔ فریقین میں دیت و قصاص کے اسلامی قانون کے مطابق سزائے موت ختم کرانے کے لیے کوششیں ہوتی رہیں جس بنا پر چار مرتبہ عدالت نے سزا پر عمل درآمد روکا لیکن بالآخر سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔ ان تین افراد کو لیاقت، اکرام، عنایت الل، عابد اور زاہد نامی افراد کو قتل کرنے کے الزام میں پھانسی دی گئی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ ایک ہفتہ میں مجرموں کو پھانسی دیے جانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔گزشتہ جمعرات فیصل آباد میں ان چار افراد کو پھانسی دی گئی تھی جس پر سات سال پہلے ایک عیسائی لڑکی کی اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہوا تھا۔ گوجرانوالہ سینٹرل جیل کے سپرٹنڈنٹ میاں شوکت فیروز نے کہا کہ اس جیل میں پہلی بار تین افراد کو ایک ساتھ پھانسی دی گئی ہے۔ | اسی بارے میں فیصل آباد میں چار افراد کو پھانسی29 June, 2006 | پاکستان بچوں نے پھانسی سے بچا لیا07 June, 2006 | پاکستان پھانسی پر حکمِ امتناعی14 March, 2006 | پاکستان لاہور:’سیریئل کِلر‘ کے لیئے سزائے موت09 May, 2006 | پاکستان معمر خواتین کا قاتل، سزائے موت06 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||