BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 April, 2006, 20:52 GMT 01:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معمر خواتین کا قاتل، سزائے موت

جیل
پاکستان میں سائنسی بنیادوں پر تفتید کی سہولیات کی کمی کے باعث اس طرح کے مقدمات کے حل میں مشکل پیش آتی ہے
جنوبی پنجاب کے علاقے بہاولپور میں جمرات کے روز انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمر رسیدہ خواتین کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ’سیریل کلر‘ کو بارہ دفعہ سزائے موت اور بیالیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

جج محمد اکرم خان نے چھ خواتین کے قتل کے الزام میں دو لاکھ روپے فی کس کے حساب سے ملزم عبدالرزاق کو بارہ لاکھ روپے تاوان ادا کرنے کا حکم بھی سنایا۔

ملزم پر الزام تھا کہ اس نے سال دوہزار ایک اور سال دو ہزار دو کے دوران احمد پور شرقیہ کے سٹی اور صدر تھانوں کی حدود میں ہونے والی مختلف وارداتوں میں منظور مائی، جیون مائی، سکینہ، حلیمہ، سرور بی بی اور شناخت نہ ہونے والی ایک خاتون کو جنسی زیادتی کے بعدگلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ قتل ہونے والی تمام خواتین کی عمریں پچاس سال سے زیادہ تھیں۔ خود ملزم کی عمر بھی پچپن برس کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

ان واقعات نے بہاولپور اور گردونواح کے علاقوں میں دو سال تک خوف پھیلائے رکھا۔

پولیس کے مطابق ملزم رزاق چودہ فروری سال دو ہزار تین کے روز اس وقت پہچاناگیا جب واردات کرنے کے بعد وہ اپنے ’شکار‘ کو مردہ سمجھ کر موقع سے فرار ہورہا تھا کہ مذکورہ خاتون نے مدد کے لیئے شور مچا دیا۔ بعد میں اسی خاتون نے ملزم رزاق کی شاخت بھی کی۔

ملزم نے بھی گرفتاری کے بعد پہلے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور پھر عدالت کے روبرو اقرار جرم کیا۔عبدالرزاق احمد پور شرقیہ میں فرنیچر بنانے کا کام کرتا تھا۔ تاہم ’سیریل کلر‘ کا روپ دھارنے سے کچھ عرصہ قبل اس نے کام کاج چھوڑ دیا ہوا تھا۔

پولیس نے ملزم کے خلاف آٹھ مقدمات قائم کر کے چالان انیس سو ستانوے کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کام کرنے والی خصوصی عدالت میں جمع کرایا تھا۔ان مقدمات میں ملزم کی گرفتاری کا سبب بننے والی اس کی آخری واردات بھی شامل تھی۔ اس مقدمے میں عدالت نے جنسی زیادتی اور اقدام قتل کے الزام میں ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ایک مقدمے میں ناکافی شہادتوں کی بناء پر ملزم کو بے گناہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

گرفتاری کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران اقرار جرم کرتے ہوئے ملزم کا کہنا تھا کہ وہ عمر رسیدہ خواتین کو اس لیئے نشانہ بناتا تھا کیونکہ وہ زیادہ مزاحمت نہیں کر سکتی تھیں۔

اسی بارے میں
بچے کے قاتل کو سزائے موت
23 June, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد