بچے کے قاتل کو سزائے موت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے جج نے مریدکے میں تین بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزمان میں سے ایک کو ایک بچے کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔ تین کم سن بچے اپریل میں لاہور کے نواحی قصبہ مریدکے میں یکے بعد دیگرے قتل ہوۓ تھے۔ جج گلزار بٹ نے انسداد دہشت گردی کے قانون مجریہ 1997کی سیکشن سات اے کے تحت یہ سزا پچپن سالہ ملز م امداد حسین کو اس کے اس اعتراف جرم کے بعد سنائی کہ اس نے چھ سال کے بچہ تحسین کو اس سال تئیس اپریل کو قتل کیا تھا۔ ملزم کو سزائے موت کے علاوہ دو لاکھ روپے جرمانہ اور دو لاکھ روپے مقتول کے ورثاء کو دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ دوسرے دو بچے سات سالہ محمد رمضان ارو سات سالہ ثمینہ ریاض اس سال تیرہ اور سولہ اپریل کو قتل ہوۓ تھے۔ ملزم فیصل آباد کے ایک گاؤں چک جی بی تھانہ ٹھیکری والا کا رہنے والا ہے اور پانچ سال سے مرید کے میں تعویز گنڈے کا کام کرتا تھا۔ ملزم نے اپنے اعتراف میں کہا تھا کہ اس کا ضمیر اسے اس قتل پر ملامت کرتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ کالا جادو کرتا تھا اس نے چھریوں کے وار کرکے کم سن بچہ کو قتل کیا اور اس کی لاش کنوئیں کے پاس رکھ دی۔ ملزم نے اعتراف میں کہا کہ اس کے شاگرد حافظ ارشد نے دو بچوں کو کالا جادو سیکھنے کے لیے قتل کیا تھا اور پولیس اس کے پیچھے لگ گئی تھی۔ اس نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے ایک اور بچہ کو خود قتل کردیا۔ دوسرا ملزم حافظ ارشد بھی پولیس کی حراست میں ہے۔تاہم دوسرے ملزم نے دو بچوں محمد رمضان او ثمینہ ریاض کے قتل کا اعتراف نہیں کیا۔ عدالت نے ان دو بچوں کے قتل کی فرد جرم ان دونوں ملزمان پر عائد کردی ہے اور مزید ثبوت اور شہادتوں کےلیے پولیس کو وقت دیا ہے۔ اب اس مقدمہ کی اگلی سماعت اٹھائیس جون کو ہوگی۔ اٹھارہ مئی کو شیخوپورہ پولیس نے ان ملزمان کو داؤکی گاؤں سے گرفتار کیا تھا اور ایک ماہ کی مدت میں اس مقدمہ کافیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ ملزمان نے پولیس کی ایک پریس کانفرنس میں بھی اپنے اوپر لگائے گۓ الزام کا اعتراف کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||