جنسی زیادتی کے3 مجرموں کو پھانسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے شہر بہاولپور کی سنٹرل جیل میں جمعرات کی صُبح اجتماعی جنسی زیادتی کے تین مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے ۔ پھانسی پانے والے افراد محمد اسلم ، صابر علی اور پرویز کو بہاولپور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بختیار احمد سیال نے جنوری انیس سو نِنانوے میں زنا بالجبر کا جُرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دی تھی ۔ ملزموں نے خصوصی عدالت کی سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ اور سُپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیلیں دائر کیں جو سماعت کے بعد خارج کر دی گئیں ۔اعلیٰ عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں ملزموں کو خصوصی عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزائے موت برقرار رکھی ۔ آخری تدبیر کے طور پر تینوں ملزمان نے صدرِ پاکستان سے رحم کی اپیل کی جو کہ مسترد کر دی گئی ۔ تینوں ملزمان اور اُن کے ایک اور ساتھی وسیم پر الزام تھا کہ انُہوں نے رحیم یار خان ضلِع کے گاؤں تھلی ماتماں میں ایک شادی شدہ خاتون تسلیم مائی کو اسلحہ کے زور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا ۔ عدالت نے ملزم وسیم کو شک کا فائدہ دیتے ہوۓ بری کر دیا تھا ۔بہاولپور میں ایک ماہ کے دوران اجتماعی زیادتی کے مجرموں کو پھانسی دیے جانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔اِس سے قبل اِسی سال تیس نومبر کو بہاولپور کی سنٹرل جیل ہی میں محمد عقیل اور محمد ناظم نامی مجرمان کو پھانسی دی گئی تھی ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||