BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 February, 2006, 00:19 GMT 05:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوہرے قتل میں تین بار سزائے موت

قیدی: فائل فوٹو
تعزیرات پاکستان اور انیس سو ستانوے کے انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت ملزم کو سزا سنائی گئی ہے
ملتان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے جمعہ کے روز دوہرے قتل کی ایک تین سال پرانی واردات کے ایک ملزم کو تین بار موت کی سزا سنائی سے جبکہ دوسرے ملزم کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

سزا پانے والے ملزم محمد ظفر پر الزام تھا کہ اس نے جولائی سال دو ہزار دو میں گھڑیوں کے ایک تاجر داؤد عزیز اور ان کے اہل خانہ پر اس وقت تیزاب کا چھڑکاؤ کر دیا تھا جب وہ سب لوگ نیو ملتان میں واقع اپنے گھر کے صحن میں رات کے وقت سو رہے تھے۔

اس حملے کے نتیجے میں داؤد عزیز، ان کی اہلیہ، اٹھارہ سالہ بیٹی رابعہ صدیقی اور تین سالہ پوتی خولہ سبین شدید زخمی ہوئے تھے۔ خولہ ملتان کے نشتر ہسپتال میں ایک ہفتہ تک زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئیں جبکہ رابعہ بھی اسی ہسپتال میں ایک ماہ تک موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد جانبر نہ ہو سکی تھیں۔

متاثرہ خاندان نے واقعہ کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہوئے محمد ظفر اور شاہد حبیب نامی افراد کو ملزم نامزد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرحومہ رابعہ کی نسبت محمد ظفر کے بیٹے سے طے پائی تھی جسے بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔ ملزم کو اس بات کا شدید رنج تھا اور متعدد بار انتقام لینے کی دھمکیاں دے چکا تھا۔

ابتداء میں پولیس کا رویہ اس مقدمے کے تفتیش کے حوالے سے مثبت نہ تھا جس پر رابعہ اور خولہ کے خاندان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو متعدد بار احتجاجی مظاہرے بھی کرنا پڑے۔ تاہم بعد میں پولیس نے تفتیش مکمل کر کے چالان انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا تا کہ مقدمے کا فیصلہ جلد از جلد ہو سکے۔

لیکن یہ مقدمہ تقریباًً ساڑھے تین سال تک خصوصی عدالت میں زیر سماعت رہا۔ مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج چوہدری امیر خان نے تعزیرات پاکستان اور انیس سو ستانوے کے انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت ملزم ظفر کو قصور وار قرار دیتے ہوئے تین بار سزائے موت، سولہ سال قید بامشقت اور آٹھ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم سنایا۔

عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں ملزم کو تین برس مزید قید با مشقت بھگتنا ہوگی۔

اسی بارے میں
تیزاب کی سزا کے خلاف رد عمل
13 December, 2003 | پاکستان
تیزاب کے بدلے تیزاب کی سزا
12 December, 2003 | پاکستان
4 کو سزائے موت 2 کوعمر قید
04 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد