BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 December, 2003, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیزاب کے بدلے تیزاب کی سزا

آنکھ کے بدلے آنکھ

بہاولپور میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے ایک مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوۓ ایک ملزم کی آنکھوں میں تیزاب کے قطرے ڈالنے کی سزا سنائی ہے جو ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی سزا ہے۔

وکیل استغاثہ ممتاز حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم سجاد نے آٹھ ماہ پہلے بہالپور میں دریاۓ ستلج کے کنارے واقع بستی حوریاں کی ایک لڑکی رابعہ پر تیزاب پھینک کر اس کی آنکھیں ضائع کردی تھیں۔

جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سید افضال شریف نے تھانہ صدر بہالپور میں درج مقدمہ کے فیصلہ میں لکھا ہے کہ ملزم سجاد نے عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اس لیے قصاص کے طور پر اسٹیڈیم میں لوگوں کے سامنے مجاز میڈیکل آفیسر اس کی آنکھوں میں بھی تیزاب کے قطرے ڈالے۔

وکیل ممتاز حسین بزمی کے مطابق عدالت نے بہالپور میں ہستال کے آنکھوں کے سرجن کو عدالت میں بلایا تھا اور ان سے مشاورت کی تھی جنھوں نے عدالت میں کہا کہ ایسی سزا پر عمل کرنا ممکن ہے۔

تاہم یہ کہنا ذرا مشکل ہے کہ آنھکھوں کا کوئی سرجن کسی ایسے فیصلہ پر عمل کرانے کے لیے خود تیار ہوگا۔

وکیل استغاثہ کے مطابق ملزم رابعہ کا منگیتر تھا اور منگنی ٹوٹنے پر رابعہ کی شادی وقوعہ سے چار روز بعد ایک اور لڑکے سے ہونے ولی تھی جس پر ملزم نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پر تیزاب پھینکا اور اس کی آنکھیں ضائع کردیں جبکہ دوسری لڑکی زخمی ہوگئی۔ رابعہ کا سینہ اور چہرہ بھی تیزاب سے جھلس گیا۔

عدالت نے ملزموں احمد داؤد اور خدا بخش کو مسماۃ پٹھانی کو تیزاب پھینک کر زخمی کرنے پر اسے دس ہزار روپے ادا کرنے حکم دیا۔ اس کے علاوہ انھیں پانچ پانچ سال قید اور دو ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی سنائی۔

تیزاب سے ملزم کی آنکھیں ضائع کرنے کی وکالت کرتے ہوۓ وکیل استغاثہ نے عدالت میں قران سے حوالہ دیا کہ اللہ کہتا ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور جو ایسا نہ کرے وہ ظالم ہے اور اپنی بات کے ثبوت میں اس قرانی حکم کی متعدد تفسیریں پیش کیں۔

وکیل استغاثہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سزا ضروری تھی اور انہیں امید ہے کہ اعلی عدالتیں اس فیصلہ کو برقرار رکھیں گی تاکہ آئندہ عورتوں پر ایسا ظلم کرنے والوں کو عبرت ہو اور وہ اس فعل سے باز رہیں۔

بہالپور کے مقامی صحافی زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سال ضلع میں تیزاب پھینک کر عورتوں کو زحمی کرنے کے چار واقعات ہوچکے ہیں اور مبارک پور میں ہونے والے ایک واقعہ میں تو بچے بھی جھلس گۓ تھے اور چند لوگ بعد میں مر گۓ تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد