| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیزاب کی سزا کے خلاف رد عمل
صوبہ پنجاب میں بہاولپور کی ایک عدالت کے تیزاب کے بدلے تیزاب کے فیصلے کے خلاف پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء اور ڈاکٹروں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان مڈیکل ایسو سی ایشن کی رکن اور سابق صدر ڈاکٹر یاسمین ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر اس طرح کی کسی بھی سزا کی حمایت نہیں کر سکتے۔ اخلاقی طور پر کوئی بھی ڈاکٹر کسی ایسی سزا میں شریک نہیں ہو سکتا جس کے تحت کسی انسان کو تکلیف دی جائے یا اس کے اعضاء کو نقصان پہنچایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ پی ایم اے اس سزا کی بالکل حمایت نہیں کرے گی، حالانکہ ہم خواتین پر کئے جانے والے مظالم کے سخت خلاف ہیں‘۔ بارہ دسمبر کو بہاولپور کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے ایک لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے اندھا کردینے کے جرم میں سجاد احمد نامی شخص کو سزا سنائی کہ ان پر بھی تیزاب پھینک کر انہیں بینائی سے محروم کردیا جائے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکنوں نے اس سزا پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن کے راشد رحمٰن کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’مہذب معاشروں میں عدالتوں کا کام بدلہ لینا نہیں بلکہ مجرموں کی اطلاح ہونا چاہیے‘۔ انہو ں نے اس سزا کو بالکل نامنساب اور ظالمانہ قرار دیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار کی رکن رضوانہ انجم مفتی نے بی بی سی کو بتایا کہ گو یہ سزا اسلامی قوانین کے تحت ہے لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایسی سزا کو لاگو بھی کیا جا سکتا ہے کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اور اگر آپ سزا کو لاگو نہیں کر سکتے ہیں تو اس کے بدلے دیت کے قانون کے تحت ہرجانے کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ماتحت عدالت ایسی سزا دیتی بھی ہے تو ہائی کورٹ میں جاکر اسے ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ خواتین پر قانون سازی کی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہ شیری رحمٰن نے کہا کہ عدالتوں کو فیصلے سناتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اس سزا کو دورِ جاہلیت کی روایت قرار دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||