مریدکے میں ایک اور بچہ قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے نواحی علاقے مریدکے میں ایک اور بچے کو مخصوص انداز میں ذبح کر دیا گیا ہے جو بظاہر سلسلہ وار قتل کی پانچوایں واردات معلوم ہوتا ہے۔ اس نئی وارادت کے سبب علاقہ میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا گیا ہے۔ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ مریدکے کے قصبے داؤکے کے رہائشی محنت کش پرویز کے پانچ سالہ بچے تجمل حسین کو صبح چھ بجے اس کی والدہ نے چند روپے دے کر بازار سے دہی لانے بھیجا جس کے چند منٹ بعد بچہ لڑکھڑاتا ہوا گھر لوٹا۔ اس کا گلا کٹا ہوا تھا جس سے خون بہہ رہا تھا۔ اہلِ خانہ اسے لے کر ہسپتال دوڑے لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نامعلوم قاتل نے بچے کا گلا کاٹنے کے بعد اسے چھوڑ دیا تھا چونکہ بچے کا گھر چند قدم کے فاصلے پر تھا اس لیے بچہ گھر چلا آیا۔ اس واقعہ سے قبل اپریل سے لے کر اب تک اسی چھوٹے سے قصبہ میں چار بچوں کو اسی انداز سے قتل کیا جا چکا ہے جبکہ ایک بچہ قاتلانہ حملہ میں زخمی بھی ہوا تھا۔ پولیس نے چند ملزمان کوگرفتار کر کے تین بچوں کے قتل کا مقدمہ عدالت بھی بھجوا دیا ہے۔ ایک ملزم نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایک بچے کے قتل کا اعتراف کر لیا تھا جس پر اسے سزائے موت سنا دی گئی۔ دو بچوں کا معاملہ ابھی زیر سماعت ہے تاہم ان ملزمان کی گرفتاری کے بعد گزشتہ ماہ کے وسط میں چوتھا بچہ ہلاک ہوگیا تھا اور اب سنیچر کو تجمل کے قتل نے پولیس کے سیریل کلر کی گرفتاری کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایس پی علی جاوید نے کہا ہے کہ اس معاملہ کی تفتیش جاری ہے تاہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تجمل کے قتل پر مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ ایک مقامی نامہ نگار نے کہا کہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مریدکے کا یہ چھوٹا سا قصبہ داؤکے نامعلوم سیریل کلر کے ہاتھوں یرغمال بن چکاہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||