BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 June, 2004, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوکاڑہ میں پانچ خواتین کا قتل

عورتوں پر تشدد
پاکستان میں عورتوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
اوکاڑہ میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک پینتالیس سالہ ریٹائرڈ فوجی اہلکار نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اپنی بیوی سمیت اپنے سسرال کی پانچ خواتین کو گولی مار کر ہلاک کردیا اور چھرے سے ان کے گلے کاٹ دیے۔ ایک شخص شدید زخمی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھی جائے واردات سے فرار ہوگئے اور اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

اوکاڑھ تھانہ کینٹ کے محرر میاں محمد اکرم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ واقعہ نصف شب کے بعد سوا بارہ بجے کے قریب اوکاڑہ سے چند کلومیٹر دور چک اننچاس تین آر میں پیش آیا اور اس کی ایف آئی آر ملزم کے سالے محمد اسلم کے کہنے پر درج کرلی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم خضر حیات ایک ریٹائرڈ فوجی اہلکار ہے جو اوکاڑہ شہر سے بیس کلومیٹر دور موضع اکبر کا رہائشی ہے۔ اس کی مذکورہ چک میں بحتاور دختر شہادت جنجوعہ سے شادی ہوئی تھی اور انکے دو بچے ہیں۔ لیکن اڑھائی سال سے میاں بیوی کے تعلقات کشیدہ تھے اوربختاور اپنے باپ شہادت کے گھر رہ رہی تھی۔

پیر کو خضر حیات اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ہمراہ بیوی سے صلح کے لیے سسرال آیا اور رات کو وہاں ٹھہرا۔ اس کے سسرال کا گھر مکئی کے کھیتوں کے بیچ ایک ڈیرے میں ہے جہاں ارد گرد زیادہ آبادی نہیں۔

پولیس کے مطابق آدھی رات کے بعد ملزم نے اپنے ساتھیوں اعجاز احمد، ظفر اقبال اور میر محمد کے ساتھ مل کر اپنے سسرال کی عورتوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔

محرر تھانہ کینٹ کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنی بیوی بختاور اور ساس ولاں بی بی کے پیٹ میں چھرا گھونپا اور ان کے گلے چھری سے ذبح کردیے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اور اس کےساتھیوں نے ملزم کی دو بہنوں فاطمہ بی بی اور آمنہ بی بی کے پیٹ میں بھی چھرا گھونپا اور پستول سے ان کے گلوں پر گلی چلادی۔

ملزم نے اپنے سالے کی بیٹی زرینہ بی بی کی چھاتی میں خنجر گھونپا اور اس کے دائیں طرف ریوالر سے فائر کردیا۔ یہ لڑکی ہسپتال جا کر دم توڑ گئی۔

ملزم نے اپنے ایک سالے احمد یار کو بھی زخمی کردیا جو اوکاڑہ کے ضلعی ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان چھریوں اور ریوالورں سے لیس تھے جبکہ جن لوگوں پر انھوں نے حملہ کیا انکے پاس اسلحہ نہیں تھا۔

محرر کا کہنا ہے کہ واردات کے محرک کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم کہا جاتا ہے کہ ملزم کو اپنی بیوی کے کردار پر شبہ تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد