BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 June, 2006, 07:18 GMT 12:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصل آباد میں چار افراد کو پھانسی

فیصل آباد جیل میں پھانسی
پھانسی پانے والوں کی لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں
جمعرات کی صبح فیصل آباد ضلعی جیل میں چار افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ان افراد کو فیصل آباد میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے سات سال پہلے ایک لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کرنے پر سزائے موت سنائی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا تھا اور صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی ملزمان کی رحم کی اپیلیں مسترد کردی تھیں۔ علاوہ ازیں وفاقی شرعی عدالت سے بھی ان کی نظر ثانی کی اپیل مسترد ہوگئی تھی۔

فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ یوسف غوری کے مطابق پھانسی پانے والوں میں پینتیس سالہ عمر حیات، تینتیس سالہ مبارک علی، چونتیس سالہ محمد اشرف اور بتیس سالہ شہزاد احمد شامل ہیں۔ سزا پانے والے دو افراد کا تعلق چک جھمرہ اور دو کا کھرڑیانوالہ کے دیہاتوں سے تھا اور وہ چاروں آپس میں دوست تھے۔

 ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سنہ دو ہزار پانچ میں پاکستان میں عدالتوں نے دو سو اکتالیس افراد کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے زیادہ تر قتل کے مجرم تھے اور ان میں سے بتیس افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے جبکہ سنہ دو ہزار چار میں پاکستان کی عدالتوں نے چار سو چھپن افراد کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے انتیس کو تختہ دار پر لٹکا کر سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا تھا۔

عدالت نے ان افراد کو سات سال پہلے انیس سو نناوے میں فیصل آباد کے نواح میں چک جھمرہ تھانہ کے ایک گاؤں چک ایک سو چوالیس میں بشیر مسیح کی بیٹی صائمہ کو اس کے گھر میں داخل ہوکر زبردستی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مجرم قرار دیا تھا۔

ملزمان پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نےگھر سے پچاس ہزار روپے اور زیورات بھی لوٹ لیئے تھے۔ ان پر انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا جس میں قصاص و دیت کے تحت سزائے موت سے بچنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔

جیل حکام کے مطابق پھانسی پانے والوں کی لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سنہ دو ہزار پانچ میں پاکستان میں عدالتوں نے دو سو اکتالیس افراد کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے زیادہ تر قتل کے مجرم تھے اور ان میں سے بتیس افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے جبکہ سنہ دو ہزار چار میں پاکستان کی عدالتوں نے چار سو چھپن افراد کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے انتیس کو تختہ دار پر لٹکا کر سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
نہ رہی جیل، نہ رہے قیدی
18 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد