فیصل آباد میں چار افراد کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کی صبح فیصل آباد ضلعی جیل میں چار افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ان افراد کو فیصل آباد میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے سات سال پہلے ایک لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کرنے پر سزائے موت سنائی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا تھا اور صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی ملزمان کی رحم کی اپیلیں مسترد کردی تھیں۔ علاوہ ازیں وفاقی شرعی عدالت سے بھی ان کی نظر ثانی کی اپیل مسترد ہوگئی تھی۔ فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ یوسف غوری کے مطابق پھانسی پانے والوں میں پینتیس سالہ عمر حیات، تینتیس سالہ مبارک علی، چونتیس سالہ محمد اشرف اور بتیس سالہ شہزاد احمد شامل ہیں۔ سزا پانے والے دو افراد کا تعلق چک جھمرہ اور دو کا کھرڑیانوالہ کے دیہاتوں سے تھا اور وہ چاروں آپس میں دوست تھے۔ عدالت نے ان افراد کو سات سال پہلے انیس سو نناوے میں فیصل آباد کے نواح میں چک جھمرہ تھانہ کے ایک گاؤں چک ایک سو چوالیس میں بشیر مسیح کی بیٹی صائمہ کو اس کے گھر میں داخل ہوکر زبردستی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مجرم قرار دیا تھا۔ ملزمان پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نےگھر سے پچاس ہزار روپے اور زیورات بھی لوٹ لیئے تھے۔ ان پر انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا جس میں قصاص و دیت کے تحت سزائے موت سے بچنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ جیل حکام کے مطابق پھانسی پانے والوں کی لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سنہ دو ہزار پانچ میں پاکستان میں عدالتوں نے دو سو اکتالیس افراد کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے زیادہ تر قتل کے مجرم تھے اور ان میں سے بتیس افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے جبکہ سنہ دو ہزار چار میں پاکستان کی عدالتوں نے چار سو چھپن افراد کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے انتیس کو تختہ دار پر لٹکا کر سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں نہ رہی جیل، نہ رہے قیدی18 October, 2005 | پاکستان سزائے موت ایک ماہ کے لیئے مؤخر23 May, 2006 | پاکستان معیز کو بچوں نے پھانسی سے بچالیا07 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||