مغوی ہاریوں کے لیے لانگ مارچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جبری مشقت سے آ زادی حاصل کرنے والے ہاریوں کا بارہ روز سے جاری لانگ مارچ کا اختتام 12 مارچ کو حیدرآباد ہوا ہے۔ اس لانگ مارچ کا اہتمام گرین رورل ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن نے ایچ آر سی پی کے تعاون سے کیا تھا۔ لانگ مارچ کا آغاز یکم کو ضلع میر پور خاص کے قصبہ جھڈو سے کیا گیا۔ لانگ مارچ میں ہاریوں کی قیادت کرنے والے گرین کے رہنما غلام حسین ملوکانی کا کہنا ہے کہ یہ لانگ مارچ جبری مشقت سے رہائی پانے والے ہاریوں کے دوبارہ اغوا کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کی علامت تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینداروں نے رہائی کے باوجود ہاریوں کے ایک سو سے زائد خاندانوں کو اغوا کیا ہوا ہے جس کا نوٹس نہ تو پولیس لے رہی ہے اور نہ عدالت۔ غلام حسین ملوکانی نے کہا کہ جبری مشقت سے رہا ئی پانے والے منو بھیل گزشتہ دو سال سے حیدرآباد پریس کلب کے باہر روزانہ اپنے خاندان کے افراد کے اغوا کے خلاف آٹھ گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کرتے ہیں۔ ان کے والدین ، بیوی بچوں کو 1998 میں زمیندار نے جھڈو سے اغوا کر لیا تھا۔ سابق گورنر معین الدین حیدر اور موجودہ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے احکامات کے باوجود پولیس انہیں بازیاب کرانے میں ناکام رہی ہے حالانکہ زمیندار عبدالرحمان مری کے خلاف پولیس میں باقائدہ ایف آئی آر درج ہے ۔ لانگ مارچ میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ غلام حسین کے مطابق 180 کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنے کے نتیجے میں ستر سے زائد افراد بیمار پڑ گئے ہیں ۔ مروا نامی ہاری عورت کا کہنا ہے کہ اپنے حقوق کی خاطر وہ لوگ یہ جدوجہد جاری رکھیں گے اور زمینداروں کو احساس دلائیں گے کہ ہم بھی انسان ہیں اور ان کے برابر کے حقوق رکھتے ہیں ۔ یہ مروا کی کوششیں تھیں کہ اس نے اپنے خاندان کے سوائے ایک لڑکے کے ، تمام افراد کے ایک زمیندار کی قید سے رہا کرالیا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||