غلامی کی ایک نئی شکل، جبری مشقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبے سندھ میں بیس لاکھ کے قریب لوگ آج بھی غلاموں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بی بی سی کے پروگرام ’نئے دور کی غلامی‘ میں لوگوں نے بتایا کہ وہ غلامی کے اس چنگل سے نکلنے کے لیے اپنے جسمانی اغصاء تک بیچ رہے ہیں لیکن غلامی سے چھٹکارا ممکن نہیں ہو رہا۔ پاکستان میں جبری مشقت کو ختم کرنے کا قانون بارہ سال پہلے بنایا گیا تھا لیکن غلامی کی یہ نئی شکل آج بھی اپنے عروج پر ہے۔ جبری مشقت کے تحت ایک زمیندار یا کارخانہ دار اپنے مزدورں کو چند ہزار روپوں کے عوض پابند کر لیتا ہے جس کے بعد وہ کسی اور کے ساتھ کام نہیں کرسکتے اور پھر ان کو ایسے نظام میں جکڑ لیا جاتا ہے کہ مزدور کو اپنی آزادی پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ مزدور جو زمیندار یا کارخانہ دار کے ساتھ کام شروع کرتے ہوئے چند ہزار روپے ایڈوانس لیتا ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوتے بلکہ بھڑتے ہی رہتے ہیں۔ سندھ کی رہنے والی شانتی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کوعلاقے کے ایک زمیندار نے اغوا کرنے کے بعد ایک کمرے میں بند کر دیا تھا جہاں اس کو زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہے کہ اس وقت دنیا میں بیس ملین لوگ غلاموں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ شانتی نے بتایا کہ جب اس کو اغوا کیا گیا اس وقت وہ دو ماہ سے حاملہ تھیں۔ اس نے بتایا کہ اس کے اغوا کاروں کا کہنا تھا کہ اس کے رشتہ دار جو اس زمیندار کے پاس کام کرتے تھے لیکن وہاں سے چلے گئے ہیں ، واپس آجائیں گے۔ شانتی کی طرح کی ایک اور خاتون لکشمی بتاتی ہیں کہ ان کا سارا خاندان اس زمیندار کا غلام ہے جو اپنی زمینوں پر محنت مزدوری کروانے کے بعد ان کو تشدد کا نشانہ بھی بناتا ہے۔ ایک نوجوان جعفر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے اس نے جاگیردار کا قرضہ اتارنے کے لیے اپنا گردہ بیچا تھا۔ ان نے بتایا کہ گردہ بیچنے والا وہ پہلا شخص نہیں ہے اس کے خاندان کے کئی اور لوگ بھی گردے بیچ چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||