ہاری کی شکایت، زمیندارگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ پولیس نے سانگھڑ کے زمیندار عبدالرحمان مری کو وہاں کے ہاری منو بھیل کے اہل خانہ کے اغواء کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ عبدالرحمان کو گزشتہ روز سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ حیدرآباد پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال کا ریکارڈ قائم کرنے والے منو بھیل نے نو سال قبل زمیندار عبدالرحمان مری اور دیگر کے خلاف اپنے والد، والدہ، بیوی اور بچوں سمیت سات افراد کے اغواء کا مقدمہ درج کروایا تھا مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ انسانی حقوق کے لئیے کام کرنے والی ایک غیرملکی تنظیم کی درخواست پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے منو بھیل کے اہل خانہ کی بازیابی کا حکم جاری کیا تھا۔ منو بھیل نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے انہیں عبدالرحمان مری کی گرفتاری سے آگاہ کیا ہے۔
منو بھیل کے مطابق انہیں لاہور میں سماعت کے بارے میں تو آگاہ نہیں کیا گیا تھا مگر اٹھائیس جولائی کو اسلام آباد میں سماعت کے موقع پر طلب کیا گیا ہے۔ گزشتہ نو سال سے پولیس اور دیگر حکام کے دفاتر اور گھروں کے چکر لگانے والے منو بھیل کا کہنا تھا کہ انہیں انصاف ملنے کی امید ہے اور یہ بھی کہ ان کے اہل خانہ بازیاب ہوجائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں منو بھیل نے کہا کہ وہ عبدالرحمان مری کو معاف نہیں کرسکتے۔ عدالت کو عبدالرحمان مری کو سزا دینی چاہیے تاکہ انصاف کی تقاضے پورے ہوسکیں۔ | اسی بارے میں ’منو بھیل کا خاندان بازیاب کرائیں‘21 December, 2005 | پاکستان ’نو سال دیوانہ وار‘ پھرنے والا 29 November, 2005 | قلم اور کالم ہند کا اڈوانی، سندھ کا اڈوانی 01 June, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||