’منو بھیل کا خاندان بازیاب کرائیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے بدھ کے روز سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی ہے کہ منو بھیل کے مغوی اہل خانہ کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اغوا کنندگان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ منو بھیل صوبہ سندھ کے ایک کسان ہیں اور ان کے سات اہل خانہ اور ایک مہمان کو اپریل انیس سو اٹھانوے میں ایک زمیندار عبدالرحمٰن مری نے مبینہ طور پر اغوا کرلیا تھا۔ جنوری سن دوہزار تین سے حیدرآباد سندھ کے پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر کھیت مزدور منو بھیل احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ اس عرصے میں حکومت، عدالتوں اور انسانی حقوق کے بیشتر فورمز پر بھی گئے لیکن تاحال انہیں انصاف نہیں ملا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے سوئیڈن کے ایک شہری توبوروگ اساکسن کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو کارروائی کی ہدایت کی اور سماعت چھ جنوری تک ملتوی کردی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس منو بھیل کے مغوی اہل خانہ کو بازیاب کرانے کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ جبکہ ان کے مطابق متعلقہ زمیندار کی ضمانت مسترد کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے پاس درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس پر متعلقہ عدالت تئیس دسمبر کو سماعت کرے گی۔ منو بھیل کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے اہل خانہ زمیندار عبدالرحمٰن کی زمینوں پر ہاری تھے۔ ان کے مطابق متعلقہ زمیندار ان سے جبری مشقت لیتے تھے اور انہیں اپنے کھیتوں میں مبینہ طور پر قید کر رکھا تھا۔ فروری انیس سو چھیانوے میں انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی معرفت چھاپہ مروا کر اکہتر قید ہاریوں کو رہائی دلوائی اور بعد میں کیمپوں میں رہنے لگے۔ اس رہائی کے دو برس بعد متعلقہ زمیندار نے اپنے مسلح ساتھیوں سمیت ان کے اہل خانہ کو اغوا کرلیا اور تاحال وہ غائب ہیں۔ اغوا ہونے والوں میں منو بھیل کے والد خیرو بھیل، والدہ اخو، بھائی جلال، بیوی موتاں، دو بیٹیوں مومل اور ڈھیلی، دو بیٹوں چمن اور کانجی کے علاوہ ایک مہمان کِرتو بھیل شامل ہیں۔ صوبہ سندھ کے جنوبی علاقوں میں کئی برسوں سے یہ رواج ہے کہ جب بھی کوئی زمیندار اپنے کھیتوں میں کام کے لیے کسان رکھتے ہیں تو انہیں کم مزدوری دیتے ہیں۔ نتیجے میں کسان ان سے قرضہ لیتے ہیں اور چند برسوں میں وہ قرضہ متعقلہ کسان کے لیے ادا کرنا ناممکن بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں زمیندار کسانوں سے کہتے ہیں کہ وہ قرضہ ادا کرنے تک ان کے کھیتوں میں ہی کام کریں گے۔ زمیندار عبدالرحمٰن کا دعویٰ ہے کہ منو بھیل ان کا مقروض ہے۔ لیکن منو بھیل کہتے ہیں کہ ان کے ذمے قرضے کے بارے میں زمیندار کا دعویٰ غلط ہے۔ بھیل صوبہ سندھ میں ہندوؤں کی ایک نچلی ذات ہے اور اس ذات کے بیشتر لوگ کھیت مزدور ہیں۔ |
اسی بارے میں ’متاثرین کو رہائش فراہم کی جائے‘21 October, 2005 | پاکستان پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ17 December, 2005 | پاکستان صحافی کی گمشدگی کامعمہ11 December, 2005 | پاکستان صحافی کا اغوا، پریس کا احتجاج06 December, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||