شادی کا کھانا، حکومت کو تنبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے جمعرات کو پورے ملک میں حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ شادیوں میں ہوٹلوں،کلبوں،شادی ہالوں اور کسی بڑی جگہ کھانا کھلانے کی پابندی کے بارے میں دیے گئے عدالتی حکم کی تعمیل کروائیں۔ عدالت نے خبردار کیا کہایسا نہ کرنے کی صورت میں شادی میں کھانا کھلانے والوں اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کروانے والوں کے خلاف توہین عدالت کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ برس نومبر میں شادیوں میں کھانا کھلانے پر پابندی لگائی تھی اور اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کسی بھی ہوٹل،کلب اور شادی ہال میں باراتیوں کو کھانا کھلانے کی ممانعت ہو گی اور مہمانوں کی صرف گرم یا ٹھنڈے مشروب سے تواضع کی جائے۔ تاہم عدالتی حکم کے باوجود کھلے عام تمام جگہ شادیوں میں کھانے کھلائے جا رہے ہیں اور کسی بھی جگہ عدالتی حکم کی پابندی نہیں ہو رہی۔اس کے علاوہ جہیز پر بے دریغ خرچ اور امیر طبقے کی طرف سے اس حکم کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکی ہے۔ اس صورتحال میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی صدارت میں تین رکنی فل بنچ نے آج اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ اپنے اپنے صوبے میں اس حکم کی پابندی کروانے کے لیے مجاز افسر تعینات کروائیں۔ عدالت نے اس کیس کی سماعت اگلے برس چودہ فروری تک کے لیے مؤخر کر دی ہے۔ عدالت نے گذشتہ برس اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ مہندی، مایوں اور جہیز دینے کی رسمیں ہندوانہ ہیں اور اس سے غریب آدمی کے اوپر ناقابل برداشت بوجھ پڑتا ہے۔
ادھرجمعرات کو ہی پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کی ایک کمیٹی میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ شادیوں پر غیر ضروری اخراجات کو محدود کرنے کی ضرورت ہے اور جہیز اور شادیوں پر بے دریغ اخراجات کو روکا جانا چاہیے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے سینیٹر انور بھنڈر کی طرف سے شادیوں پر اخراجات کو محدود کرنے اور جہیز کی نمائش پر پابندی سے متعلق ایک بل پر بحث کی۔ سینیٹر انور بھنڈر کے مطابق شادیوں پر اخراجات کو محدود کرنے اور جہیز پر بلا ضرورت خرچ کرنے کے سابقہ قانون پر عملدرآمد نہیں ہو سکا اس لیے اس کے بارے میں ایک نئے قانون کی ضرورت ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||