اغواء، اغواء نہیں شرارت تھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کا کہنا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک ملازم کے لڑکے کے مبینہ اغواء کے معاملے کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ معاملہ ایک شرارت تھا اور اس بارے میں پاکستانی حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا۔ بیان کے مطابق پولیس نے پورے معاملے کی تفتیش کی ہے اور اسکا کہنا ہے کہ جس وقت اغواء کے واقعے کا ذکر کیا گيا ہے اس وقت اغواء جیسی کسی بھی واردات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بیان کے مطابق ’پاکستانی ہائی کمیشن کو مطلع کردیا گیا ہے کہ ہندی زبان میں لکھا روشن علی نے جو خط پیش کیا تھا وہ ان کے اس دوست نے لکھا تھا۔ جو ان کے ساتھ ہی ساؤتھ ایکسٹیشن کے ایک انسٹی ٹیوٹ میں پڑھتا ہے۔ تفتیش سے یہی نتیجہ نکلا ہے کہ مذکورہ واقعہ ایک شرارت تھا‘۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک ملازم کے بچے کے اغواء ہونے کی شکایت بھارت سے کی تھی اور اس پر وضاحت بھی طلب کی تھی۔ شکایت کے بعد ہی ہندوستان میں حکام نے اس معاملے کی تفتیش کے احکامات دیے تھے۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سینئر افسرنے بی بی سی کو بتایا تھا کہ منگل کو ساڑھے پانچ بجے کالج سے نکلتے وقت چند افراد روشن علی کو گاڑی میں اٹھا کر لے گۓ تھے۔ اس کی آنکھوں پر کپڑا باندھ دیا گیا تھا اور رات بھر اسے نا معلوم جگہ پر رکھا گیا۔ بات چیت کے مطابق بدھ کو دو پہر کے بعد تقریبا ڈھائی بجے اسے انڈیا گیٹ کے پاس رہا کیا گیا تھا جہاں سے وہ پیدل چل کر آیا سفارت خانے آیا۔ اس کی حالت بہت خراب تھی اور وہ بہت پریشان تھا۔ | اسی بارے میں بھارتی سفارتکار ملک بدر23.01.2003 | صفحۂ اول بھارت چھوڑنےکا مشورہ31.05.2002 | صفحۂ اول پاکستان سے دو بھارتی سفارتکاروں کا اخراج19.03.2002 | صفحۂ اول سفارتی عملہ: تعداد میں اضافے پر اتفاق15 January, 2004 | پاکستان پاکستان سے دو بھارتی سفارتکاروں کا اخراج19.03.2002 | صفحۂ اول سفارتکاروں کے تحفظ کا ادارہ قائم 14.01.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||