حدود بل کے خلاف خواتین کا مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعیت علماء اسلام (ف) خواتین وِنگ صوبہ سرحد نے پیر کے روز متنازعہ حدود آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے خلاف پشاور میں ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ پشاور پریس کلب کے سامنے سڑک پر جمع ہونے والی برقعہ پوش خواتین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ’تحفظ خواتین بل میں ترامیم نامنظور نامنظور، امریکہ کا جو یار ہے غدار غدار ہے‘ کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے پندرہ بیس منٹ تک مسلسل ’اسامہ زندہ باد، ایٹم بم کا دوسرا نام طالبان، طالبان اور ایک آواز ایک قوت جمعیت جمعیت‘ کے نعرے بھی بلند کیے۔ مظاہرے کی قیادت جے یوآئی (ف) حلقہ خواتین شیخ آباد کی ایک خاتون رہنما دختر ایوب نے کی جبکہ جمعیت علماء اسلام کے دیگر صوبائی رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
انہوں نے کہا: ’مغربی تہذیب کی دلدادہ خواتین کی خواہشات کو 99 فیصد باکردار خواتین پر مسلط کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائیگی اور اس ترمیم کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔‘ دخترایوب نے زور دیکر کہا کہ ’حدود اللہ‘ میں کسی قسم کی ترامیم کی گنجائش نہیں اور باکردار مسلمان خواتین اپنے خون جگر سے اسلام، اسلامی تعلیمات اور ختم نبوت کی حفاظت کریں گی۔ خاتون رہنما کا کہنا تھا کہ آج حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسیوں کی وجہ سے نظریۂ پاکستان پر کاری ضربیں لگائی جارہی ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں میں حدود بل میں ترامیم کے خلاف پشاور میں خواتین کی جانب سے یہ دوسرا مظاہرہ تھا۔ اس سے پہلے جماعت اسلامی کے حلقہ خواتین کی طرف سے ایک مظاہرے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں حدود: مذاکرات تعطل کا شکار15 September, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل ایک بار پھر مؤخر13 September, 2006 | پاکستان پی پی کا بائیکاٹ، اعجاز الحق تبدیل 24 August, 2006 | پاکستان حدود قوانین کے ترمیمی بل پرہنگامہ22 August, 2006 | پاکستان حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر28 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||