’خواتین کو کیا ملا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حمایت یافتہ حکومت کو ساڑھے تین سال گزر چکے ہیں مگر خواتین کے حق میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بل کے سوائے قانون سازی نہیں ہوئی ہے۔ صدر جنرل پرویزمشرف کے برسر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے خواتین کو تینتیس فیصد نمائندگی کا حق دیا اورگریجوئیٹ اسمبلی کے قیام کا اعلان کیا مگر اس کے بعد بھی پاکستان کی خواتین کو کوئی خاص ریلیف نہیں مل سکا ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت ہو یا اپوزیشن تمام جماعتوں نے خواتین کی فلاح اور بہبود کے لیئے بل پیش کئے جس میں سے اکثریت یا تو رد ہوگئی یا تو کمیٹیوں کے سپرد کردی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کے حق میں کوئی بھی قانون سازی نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ ان کے بارے میں خواتین کے ایشوز حکومت کی ترجیحات میں شامل نہ ہونا ہے۔ شیری رحمان کے مطابق اگر سترہویں ترمیم کا معاملہ آتا ہے تو سارے ممبر اس پر ووٹ دیتے ہیں مگر خواتین کے ایشوز پر ان کا رویہ مختلف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ کسی پارٹی کی حکومت نہیں ہے نہ اس کا کوئی نظریہ ہے نہ پروگرام۔
ایم ایم اے کی رکن اسمبلی اور قاضی حسین احمد کی صاحبزادی سمیعہ راحیل قاضی نے بتایا’ ہم نے آٹھ بل پیش کئے ہیں۔ جن میں سے چار بل کمیٹیوں کے حوالے ہیں ان میں سے ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ، خواتین کے معاشی استحکام، وارثت، خواتین کے مقدمات فیملی کورٹس میں منتقل کرنے، قرآن سے شادی کی ممانعت، خواتین کی کفالت اور خواتین کی تعلیم اور صحت کا انتظام ریاست کی ذمہ داری کا بل شامل ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ ایم ایم اے کی خواتین نے زیادہ بزنس کیا ہے۔ اس ایوان میں جب مرد ہی کچھ نہیں کرسکے تو خواتین کیا کرسکتی ہیں کیونکہ یہ ملٹری ڈکٹیٹر شپ ہے۔ مگر حدود آرڈیننس کے بارے میں سمعیہ قاضی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ حدود آرڈیننس اور قانونی شاہدات میں ترمیم چاہتے ہیں’ ہم انہیں بھی توہین رسالت کے جرم میں برابر کا شریک سمجھتے ہیں‘۔ عورت فاؤنڈ یشن کی ریجنل ڈائریکٹر انیسں ہارون صورتحال سے مطمن نظر آتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے آنے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی ہے۔ اب ان سے بھی پوچھا جاتا ہے وہ احتجاج کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سڑسٹھ فیصد مرد کچھ نہیں کرسکتے تو یہ خواتین کونسی قانون سازی کرسکیں گی۔ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہر سال ایک ہزار سے زائد خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس بل کے بعد خواتین کو رلیف ملے گا سوہارا اور ونی کی رسومات کا بھی خاتمہ ہوگا۔ نیلوفر بحتیار نے بتایا کا حدود آرڈیننس کا ترمیمی بل وزارت قانون کے پاس ہے۔ جسے بھی منظورر کراویا جائےگا۔ پاکستان بار کونسل کی رہنما نور ناز آغا اس بل پر اعتراض کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے غیرت کے نام پر قتل کا جو بل ایوان سے پاس کروایا ہے اس میں بھی اس قتل کو قابل معافی جرم قرار دیا گیا ہے۔ کوئی بھی مرد عورت کو قتل کرےگا اس کے ورثا اس کو معاف کردیں گے۔’ہم اس کے مخالف ہیں ہم کہتے ہیں کہ غیرت کے نام پر قتل کو ریاست کے خلاف جرم قرار دیا جائے‘۔ |
اسی بارے میں طلاق یافتہ خواتین کا محلہ18 August, 2005 | پاکستان مرنے والی خواتین جیت گئیں26 September, 2005 | پاکستان زلزلہ: حاملہ خواتین کا کرب21 October, 2005 | پاکستان خواتین کے وفود کے تبادلے پر بات چیت04 March, 2006 | پاکستان پاکستان میں خواتین کا عالمی دن08 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||