BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 March, 2006, 14:09 GMT 19:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختار مائی کی قیادت میں جلوس

یہ دوسرا مسلسل سال ہے جب مختار مائی نے خواتین کے عالمی دن پر جلوس کی قیادت کی۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر’حدود آرڈینینس‘ کی منسوخی کے مطالبہ دہراتے ہوئے ملتان میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا جس کی قیادت مختار مائی نے کی۔

جلوس میں کئی ایسی خواتین بھی شامل تھیں جو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد حصولِ انصاف کی جدوجہد میں سرگرداں ہیں۔

ریلی کا انعقاد پتن ترقیاتی تنظیم، ساؤتھ پنجاب این جی اوز فورم اور خواتین کونسلرز نیٹ ورک نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ریلی کے شرکاء ملتان سپورٹس گراونڈ سے مارچ کرتے ہوئے کلمہ چوک تک آئے۔جلوس میں شامل لوگوں نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حدود قوانین کو کالے قوانین سے تعبیر کرتے ہوئے ان کی فوری منسوخی کے مطالبات درج تھے۔

ریلی کے منتظمین کے مطابق جلوس میں پاکستان کے تین صوبوں پنجاب، سندھ اور سرحد کے تیس کے قریب اضلاع سے خواتین نے شرکت کی۔سپورٹس گراونڈ سے کلمہ چوک تک پہنچنے کے دوران خواتین وقفے وقفے سے رک کر سماجی مساوات اور مردوں کے برابر حقوق کے حصول کے حق میں زور دار نعرے بازی بھی کرتیں۔

ریلی کے شرکاء میں مقبول نعرے تھے ’جاگی جاگی عورت جاگی‘۔ ’ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے‘ اور ’کالے قوانین واپس لو‘۔

مظاہرین نے حدود آرڈینینس کی منسوخی کا مطالبہ دہرایا

ریلی کے اختتام پر تقاریر بھی کی گئیں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے مختلف قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ حدود آرڈینینس عملی طور پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس حوالے سے زنا اور قذف کے قوانین نے خواتین کو براہ راست متاثر کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین کے ذریعے ’ضیاء دور‘ میں پاکستانی خواتین کو پس ماندہ اور خاموش رکھنے کی سازش کی گئی جسے بعد میں آنے والے حکمرانوں نے جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ’کالے قوانین‘ کے باعث ہزاروں بے گناہ خواتین جیلوں میں بند ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق حدود لاز کے تحت دو لاکھ سے زائد مقدمات پاکستان کی مختلف سطح کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حدود لاز کا جائزہ لینے والے کئی کمیشن انہیں ظالمانہ، خواتین کے استحصال پر مبنی اور اسلام کے منافی قرار دے چکے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی بھی حکمران انہیں منسوخ کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔

اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کی ویمن سٹڈیز کے شعبہ کی سربراہ ڈاکٹر فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ ہر سال عالمی یوم خواتین پر احتجاج اس لیئے کیا جاتا ہے کہ (جشن) منانے کے لیئے پاکستانی عورتوں کے پاس کوئی جواز نہیں ہوتا کیونکہ جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو یہاں کی عورت ابھی تک فرسودہ جاگیردارانہ نظام سے نجات حاصل نہیں کر پائی۔

مختار مائی کا کہنا تھا کہ ظلم کا شکار خواتین کو انصاف کے حصول کے لیئے ابتداء ہی میں (پولیس) تھانے کی سطح پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پولیس وڈیروں کی گرفت میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح جلسہ جلوس کرنے سے مسائل کا شکار عورتوں کو حوصلہ ملتا ہے اور ان کی کچھ حد تک تسلی ہوجاتی ہے کہ انصاف کی جدوجہد میں وہ اکیلی نہیں ہیں۔

یہ دوسرا مسلسل سال ہے جب مختار مائی نے ملتان میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر نکلنے والے جلوس کی قیادت کی۔

پچھلے برس چار مارچ کو لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے’مختار مائی اجتمائی جنسی زیادتی کیس‘ میں موت کی سزا پانے والے چھ میں سے پانچ کو بےگناہ قرار دیا تھا۔ جس پر انصاف کے حصول کی قانونی لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے مختار مائی نے پہلی دفعہ خواتین کے ایک بڑے جلوس کی قیادت کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد