طلاق یافتہ خواتین کا محلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے ساحل پر تین سو سال سے آباد ریڑھی میان کے محلے موسانی میں تقریباً ایک ہزار گھر ہیں اور ہر گھر میں ایک طلاق یافتہ خاتون موجود ہے۔ صرف جون سنہ 2005 کے تیسرے ہفتے چوبیس گھنٹوں کے اندر سات عورتوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے ماں باپ کے گھر لوٹنا پڑا۔ ریڑھی میان ایک ماہی گیر بستی ہے اور یہ ماہی گیر بنیادی ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم ہیں۔ریڑھی میان میں رہنے والے زیادہ تر مرد نشہ کرتے ہیں اور کام چور ہیں۔ علاقے کی بے سہارا عورتوں کا خیال رکھنے والی ایک عمر رسیدہ خاتون نے مجھے ایسی ایک درجن خواتین سے متعارف کروایا جنہیں ایک سے لے کر چار مرتبہ تک طلاق ہو چکی ہے۔ ان عمر رسیدہ خاتون زیبو کی اپنی چار شادی شدہ بیٹیوں میں سے دو کو طلاق ہو چکی ہے اور ایک کو اس کے سسرال والوں نے گھر سے نکال دیا ہے۔ زیبو نے اپنے شوہر کے مرنے پر جشن منایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ میرا شوہر ہر وقت نشے میں دھت رہتا تھا۔ اس کے حصے کا کام کاج بھی مجھے کرنا پڑتا سو جب وہ مر گیا تو میں بہت خوش ہوئی‘۔ علاقے کے ایک سماجی کارکن نواز کا کہنا تھا کہ محلے کے مردوں کی 70 جبکہ عورتوں کی 30 فیصد آبادی نشے کی عادی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں زیادہ تر مرد نشے کے زیادہ استعمال اور تعلیم کی کمی کی بنا پر عورتوں کو طلاق دیتے ہیں۔ ایک اور سماجی کارکن ایم عثمان کا کہنا تھا کہ’ اب تو کچھ کم لیکن پہلے تو ہمارے ہاں طلاق نہ دینے والے کو کمزور سمجھا جاتا تھا اور یہاں کے لوگ طلاق کو اپنی مردانگی سمجھتے تھے لیکن اب طلاق تو ایک فیشن بن چکی ہے،۔ علاقے کے لوگ یا تو ہر وقت سمندر میں مچھلی کے شکار پر رہتے ہیں یا پھر نشہ کرتے ہیں۔ خواتین نے بتایا کہ طلاق کے بعد وہ خود گزارہ کرتی ہیں، کیونکہ ان کی رکھوالی کرنے والے ان کے بھائی خود نشہ کا شکار ہیں۔ یہ خواتین گھروں میں یا پھر جھینگوں کی صفائی کے مرکزوں میں کام کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔ اسی علاقے میں رہنے والی بتیس سالہ حمیدہ کی طلاق ڈھائی سال پہلے ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میری عمر بارہ سال ہو گی جب میں بیاہی گئی۔ شادی کے سات سال تک زندگی صحیح بسر ہوتی رہی۔ اس کے بعد میرے خاوند نے نشہ شروع کر دیا۔ میں نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ وہ نہ سنبھلا تو میں نے ایک مرتبہ خودکشی کی کوشش کی بھی۔ اس نے ہمارے گھر کا تمام سامان یہاں تک کہ چھت کی لکڑیاں بھی بیچ ڈالیں اور جب کچھ نہیں بچا تو مجھے طلاق دے دی۔ حمیدہ کی ایک بیٹی کی شادی ہو چکی ہے اور وہ اپنی چھوٹی بیٹی اور دو بیٹوں کے ساتھ چچا کے گھر میں رہتی ہے۔ ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کےسربراہ محمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ’ مردوں میں تعلیم کی کمی ان برائیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ یہ لوگ لبرل بھی ہیں، گھر کے زیادہ تر معاملات میں خواتین کو اہمیت حاصل ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود طلاق جیسی برائی عام ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||