حقوق نسواں بل ایک بار پھر مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حدود آرڈیننس میں ترامیم کے معاملے پر حلیف اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مخالفت کے بعد حکومت نے ایک بار پھر ’تحفظِ حقوقِ نسواں بل‘ اسمبلی میں بحث کے لیئے پیش نہیں کیا ہے۔ بدھ کی شام جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو یہ بل اجلاس کے ایجنڈے پر تھا تاہم اسی دوران وزیرِ اطلاعات نے ایک پریس کانفرنس میں تمام جماعتوں کے اتفاقِ رائے کے بعد ہی بل پیش کرنے کا اعلان کیا۔ پارلیمان کے کیفے ٹیریا میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ بل کی منظوری کے سلسلے میں حکومت کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے بل کو پیش کیئے جانے کی تاریخ نہیں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ حدود بل میں ترامیم کا مسئلہ ایک تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے اور تمام جماعتیں اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں اس لیئے حکومت اس بل پر تمام جماعتوں کو ساتھ لے کرچلے گی۔ اسمبلی میں بل پیش کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت تیزی کی بجائے درستگی پر یقین رکھتی ہے اور اسے اس بل کو پاس کروانے کی کوئی جلدی نہیں اس لیئے ایسا بل لانے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر تمام جماعتیں متفق ہوں اور اس معاملے پر حکومت ایوان کے اندر اور باہر ہر جگہ بات کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کی جانب سے جن دیگر تجاویز کو بل میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ان پر بھی بات ہوگی اور یہ معاملہ افہام وتفہیم سے حل کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں قائد ِحزب اختلافِ مولانا فضل الرحمان نے بدھ کی صبح ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ بل کی موجودہ شکل سے مطمئن نہیں اور اس سلسلے حکومت کی قائم کردہ علماء کمیٹی کے ساتھ اپنے تحفظات پر بات کریں گے۔ واضح رہے کہ حکومت نے بل کا ترمیم شدہ مسودہ ایم ایم اے کے حوالے کر دیا تھا جس پر متحدہ مجلس عمل کے اجلاس میں غور کیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے اس بل کی مخالفت کے سوال پر محمد علی درانی نے کہا کہ اس بل کے سلسلے میں اپوزیشن اور حلیف جماعتوں کے تحفظات پر بات ہو گی اور ان کے خدشات دور کیئے جائیں گے۔ ادھر ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاوق ستار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سلیکٹ کمیٹی کا منظور کردہ بل ایوان میں پیش نہ کیا گیا تو ان کی جماعت حکومت میں رہتے ہوئے اس بل کے خلاف ووٹ دے گی۔ ایم کیو ایم نے احتجاجاً حکومتی پارٹیوں کے پارلیمانی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔ محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ اگر ماضی کی حکومتوں نے ان حدود ترامیم کے سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تو یہ ان کی کمزوری تھی جبکہ موجودہ حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو حکومت اور اپوزیشن کی کسی جماعت نے رد نہیں کیا تاہم اس میں بہتری کی بات کی جا رہی ہے جس سے یہ بات واضح ہے کہ یہ بل قرآن و سنت سے متصادم نہیں۔ یاد رہے کہ اتوار اور پیر کو حکومت اور علماء کمیٹی کے اجلاس میں حدود بل کے مسودے میں تین ترامیم کا فیصلہ کیا گیا تھا جن کے تحت حد کی شرائط پوری ہونے پر زنا بالجبر کے مقدمے میں حد جاری کی جائے گی اور شرائط پوری نہ ہونے پر مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کے تحت چلے گا۔ دوسری ترمیم کے تحت حدود آرڈیننس میں زنا موجبِ تعزیر کی دفعہ کی جگہ اس سے قبل حدود آرڈینس میں اس جرم کی سزا دس برس تک قید اور تیس کوڑے تھی۔ علاوہ ازیں حدود آرڈیننس سے حذف کی جانے والی دفعہ تین کو ترمیم کے ساتھ دوبارہ بل میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں حکومت، اپوزیشن میں معاہدہ11 September, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: استعفے بِل سے مشروط05 September, 2006 | پاکستان حدود بل، کارروائی جمعرات کو04 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||