BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 November, 2006, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش

خواتین
مذہبی جماعتیں حدود قوانین میں ترامیم کے خلاف ہیں۔
پاکستان کی حکومت نے بدھ کے روز زنا اور قذف کے متعلق اسلامی قوانین یعنی حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔

وزیر قانون وصی ظفر نے جب بل پیش کیا تو کسی جماعت کوئی احتجاج نہیں کیا بلکہ مذہبی جماعتوں کے اراکین نے اس کی لفظ ’اپوز‘ کہہ کر مخالفت کی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے اراکین خاموش رہے۔

سپیکر چودھری امیر حسین کے سوال پر وزیر قانون نے وضاحت کی کہ جو بل پیش کیا گیا ہے وہ ایوان کی ’سلیکٹ کمیٹی، کا منظور کردہ ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس میں علماء کمیٹی سے طے پانے والے معاہدے کے مطابق فحاشی سے متعلق شقیں ترامیم کی صورت میں پیش کرکے اس بل کا حصہ بنایا جائے گا۔

جب بل پیش ہوا تو وزیراعظم شوکت عزیز، قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمٰن اور مخدوم امین فہیم موجود تھے لیکن قاضی حسین احمد غیر حاضر تھے۔

بل پیش کرنے سے چند منٹ پہلے جس طرح وزیراعظم اور قائد حزب مخالف ایوان میں داخل ہوئے اس سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ آپس میں مشاورت کے بعد آئے ہیں۔

قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جو بل پیش کیا گیا ہے وہ نہ سلیکٹ کمیٹی والا ہے اور نہ علما کمیٹی والا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اگر خواتین کے حقوق کا بل پیش کرنا چاہتی ہے تو خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے کے بجائے ان کی قرآن سے شادیاں کرانے، وٹہ سٹہ، صلح کے بدلے لڑکیاں دینے اور جبری نکاح پڑھانے پر پابندی کے متعلق قانون میں ترامیم کرے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حقوق نسواں کے نام سے پیش کردہ بل کا مقصد ملک میں فحاشی کی اجازت دینے کے مترادف ہے اور اس سے پاکستان ’فری سیکس زون‘ بن جائے گا۔

پارلیمانی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ حکومت نے جو ترمیمی بل پیش کیا ہے اس میں کوئی شق اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہے اور کسی کو اگر اعتراض ہے تو وہ کسی بھی ملک کے عالم دین کی رائے لے لے۔

حکومت نے حزب مخالف کی مشاورت کے بعد بدھ کی شام کو بھی اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ جلد سے جلد اس بل کو منظور کراسکیں۔

واضح رہے کہ اسلامی قوانین میں ترامیم کا جب حکومت نے فیصلہ کیا تو مذہبی جماعتوں کی جانب سے اسمبلی سے مستعفی ہونے اور علماء کی جانب سے تحریک کی دھمکیاں دی گئیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت نے علما کی خواہش کے مطابق حقوق نسواں بل میں ترامیم کر لی ہیں۔

وفاقی وزیرِ قانون محمد وصی ظفر نے منگل کو علماء کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ترمیمی بل کا مسودہ قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرایا تھا۔

حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی اور حکومتی اتحاد میں شامل متحدہ قومی موؤمنٹ نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت نے علماء کمیٹی کی شق بل میں شامل کی تو وہ اس کی مخالفت کریں گے لیکن انہوں نے تاحال ایسا نہیں کیا۔

جب یہ بل اسمبلی میں پیش کیا گیا تو پارلیمان کے باہر خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے نمائندے اس بل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

احتجاج کرنے والی ایک خاتون فرزانہ باری نے کہا کہ جب حکومت کا بنایا گیا خواتین کے حقوق کے متعلق کمیشن نے سفارش کی ہے کہ حدود قوانین ختم کیے جائیں تو اس میں ترمیم کیوں؟

ان کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ حدود قوانین میں ترامیم کے بل کی حامی اور مخالف جماعتیں مصلحت پسندی کا شکار ہیں اور اپنی سیاست چمکا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
حدود کیس۔ اٹارنی جنرل طلب
04 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد