BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود کیس۔ اٹارنی جنرل طلب

ریپ پر تجویز کیے جانے والے نئے قانون کے خلاف اسلام آباد میں عورتوں کا احتجاج (فائل فوٹو)
ریپ پر تجویز کیے جانے والے نئے قانون کے خلاف اسلام آباد میں عورتوں کا احتجاج (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ نے حدود آرڈیننس کا باقاعدہ جائزہ لینے اور نازیہ اغوا کیس میں اس آرڈیننس کا اطلاق کرنے پر غور کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو معاونت کے لیئے طلب کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم لاہور کی تیرہ سالہ نازیہ کے مقدمہ کی سماعت کے دوران دیا جسے اغوا کرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

لڑکی حاملہ ہوگئی تھی اور اس نے ایک بچہ کو بھی جنم دیا ہے۔ چند ہفتے پہلے سپریم کورٹ نے اس معاملہ کا از خود نوٹس لیا تھا۔

عدالت عظمی نے نازیہ کے اغوا کیس میں غفلت برتنے پر لاہور کے دو سپرانٹنڈنٹ پولیس محمد انعام اور علی ارسلان کو فرائض انجام دینے سے روک دیا اور ان کی خدمات وفاقی حکومت کے سپرد کردیں۔

عدالت عظمی نے کہا کہ پولیس کی اس سے بڑی نااہلی کیا ہوسکتی ہے کہ زنا کے مقدمے میں ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خادم قیصر نے عدالت عظمی کو بتایا کہ لاہور میں ستو کتلہ پولیس نے نازیہ کے اغوا اور زیادتی کا مقدمہ اب درج کرلیا ہے اور انتیس ستمبر کو لڑکی کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔

عدالت عظمی میں وکیل بابر اعون معاون کے طور پر پیش ہورہے ہیں۔ انہوں نے عدالت عظمی کو اس معاملہ پر اپنی رائے تحریری طور پر پیش کی کہ کس طرح جبری زنا کے واقعات میں خواتین کو بطور ملزم نامزد کرنے کا غیر قانونی عمل روکا جاسکتا ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ جبری زیادتی کے واقعات میں متاثرہ عورت فریق سمجھی جائے اور حدود آرڈیننس میں ایک ترمیم کی جائے کہ جب تک کوئی عورت زنا بالرضا کا آزادانہ اور سچا اقبال جرم عدالت کے روبرو تین مختلف تاریخوں میں نہ کرلے اس وقت تک اسے اس جرم کی سزا نہ دی جائے۔

انہوں نے نے یہ بھی تجویز دی کہ اگر کسی عورت کے ساتھ جبری زیادتی کے نتیجہ میں حمل ہوجائے توعورت کو گرفتار کرنے کے بعد کسی قسم کی سزا نہ دی جائے اوراسے تحفظ دیا جائے چاہے زیادتی کرنے والے مرد کا علم ہو یا نہ ہو۔

عدالت عظمی یکم نومبر کو اس معاملہ کی سماعت دوبارہ شروع کرے گی۔

ملک میں خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں حدود آرڈیننس کی مکمل منسوخی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور اسے عورتوں کے خلاف امتیازی قانون قرار دیتی ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل اور خواتین کے حقوق کے قومی کمیشن نے بھی حدود آرڈیننس میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی۔

ان سفارشات کی روشنی میں چند ہفتے پہلے قومی اسمبلی کی سیلیکٹ کمیٹی نے اس قانون میں ترمیم کے لیئے خواتین کے تحفظ کے نام سے ایک بل منظوری کے لیئے پیش کیا تھا۔

تاہم چھ رکنی مذہبی اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اس بل کی زبردست مخالفت کرتے ہوئے اس کی پارلیمینٹ سے منظوری کی صورت میں تمام اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت نے اس بل کی منظوری التوا میں ڈال دی۔

اب سپریم کورٹ اگر حدود آرڈیننس میں ترمیم کے لیئے غور کرتی ہے تو یہ ایک اہم عدالتی فیصلہ ہوگا۔

لڑکی کی والدہ کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس سید اشہد پر مشتمل تین رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کررہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم معصوم لڑکیوں کو بچانا چاہتے ہیں جنہیں مجرم اغوا کرلیتے ہیں اور جب وہ حاملہ ہوجاتی ہیں تو انہیں مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

عدالت عظمی پہلے ہی اوکاڑہ پولیس کو ہدایت کرچکی ہے کہ وہ لڑکی کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم ظہور احمد کے خلاف مقدمہ درج کرے۔ عدالت عظمی کو بتایا گیا کہ ملتان پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حدود مقدمات میں پولیس کی نااہلی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ انہوں لاہور اور اوکاڑہ پولیس کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر ان کی سرزنش کی۔ انہوں نے پولیس کی تفتیش کو بھی غیر معیاری قرار دیا۔

عدالت عظمی نے کہا کہ یہ معمول بن چکا ہے کہ ایسے واقعات میں مجرم فرار ہوجاتے ہیں جبکہ زیادتی کا نشانہ بننے والی عورتوں پر الزام بھی لگ جاتا ہے اور معاشرہ میں وہ بدنام بھی ہوجاتی ہیں۔

اسی بارے میں
ایم ایم اے: حدود مسودہ مسترد
14 September, 2006 | پاکستان
حدود: مذاکرات تعطل کا شکار
15 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد