حدود بل: ملک گیر تحریک کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حقوقِ نسواں کی علمبردار غیر سرکاری تنظیموں نے حدود آرڈیننس کی منسوخی کے لیئے ملک گیر تحریک شروع کردی ہے۔ تحریک کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک احتجاجی ریلی سے ہوا جس میں صوبہ سرحد اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں خواتین، بچوں اور مردوں نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے چائنا چوک سے پارلیمنٹ ہاؤس تک جلوس نکالا اور پارلیمان کے سامنے دھرنا دیا۔ ریلی میں شامل چند خواتین نے گلے میں پھندے ڈال کر پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کیا جبکہ دیگر شرکاء نے بینر اور سیاہ جھنڈیاں اٹھا رکھی تھیں جن پر حکومت، مولویوں اور حدود آرڈیننس کے خلاف نعرے درج تھے۔ پولیس نے راستے میں دو مقامات پر جلوس کو روکنے کی کوشش کی جوناکام رہی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت کی جانب سے حدود بل میں ترامیم کی کوشش کی مذمت کی اور کہا کہ یہ پرانے بل کو نیا جامہ پہنا کر سامنے لانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت، سیاسی اور مذہبی جماعتیں عورتوں کے حقوق پر سودے بازی کر رہی ہیں۔ مقررین نے حدود آرڈیننس کی فوری منسوخی کا مطالبہ بھی کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں حدود بل کے سلسلے میں حالیہ دنوں میں ہونے والی سرگرمیوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ بل نہ صرف حقوقِ انسانی سے متصادم ہے بلکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بھی اس کی مخالف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ستائیس سالوں میں جتنی خواتین ان کالے قوانین کی بدولت جیلوں میں بند ہوئی ہیں اس تعداد کا عشرِ عشیر بھی سنہ 1947 سے سنہ 1979 تک قید نہیں ہوا۔ | اسی بارے میں جے یو آئی (ف) خواتین کا مطالبہ 04 September, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل ایک بار پھر مؤخر13 September, 2006 | پاکستان حدود: مذاکرات تعطل کا شکار15 September, 2006 | پاکستان شجاعت کی قاضی سے ملاقات16 September, 2006 | پاکستان حدود بل کے خلاف خواتین کا مظاہرہ18 September, 2006 | پاکستان ’حدود بل پر پسپائی اختیار نہیں کی‘20 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||