BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 September, 2006, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شجاعت کی قاضی سے ملاقات

حدود آرڈیننس کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں
پاکستان میں حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کی جانب سے تحفظ حقوق نسواں بل پر اتفاق رائے کے لیئے کوششیں سنیچر کے روز بھی جاری رہیں۔

مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور سیکریٹری جنرل مشاہد حسین پر مشتمل ایک وفد نے متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد سے ان کی اسلام آباد میں رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔

تقریبا پچاس منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں مسلم لیگی رہنماوں نے ایم ایم اے سے تحفظ حقوق نسواں بل پر لچک کا تقاضہ کیا تاکہ حدود آرڈیننس میں ترامیم کو جلد از جلد پارلیمان سے منظور کرایا جا سکے۔

تاہم جماعت اسلامی کے ایک ترجمان کے بقول قاضی حسین احمد نے حدود آرڈیننس پر حمایت کو مشترکہ علما کمیٹی کے فیصلے کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ ایم ایم اے کا کہنا تھا کہ جو فیصلہ علما کمیٹی کرے گی وہ اسے قبول ہوگا۔

تاہم جماعت اسلامی کے ترجمان نے بتایا کہ قاضی حسین احمد نے مسلم لیگی وفد پر واضع کیا کہ ملک کو درپیش اصل مسئلہ حدود آرڈیننس کا نہیں بلکہ فوجی حکمران سے نجات، آزاد اور شفاف انتخابات، مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان مسائل کو پس پشت ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ایم ایم اے حدود آرڈیننس پر اپنی حمایت فوجی حکومت کے خاتمے یا آزاد انتخابات کے ساتھ مشروط کر رہی ہے تو ترجمان نے اس کی نفی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حدود آرڈیننس پر مذہبی اتحاد نے اپنا موقف واضع کر دیا ہے کہ یہ علما کمیٹی کے فیصلے پر منحصر ہے۔

مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے جمعہ کو ایک اخباری کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ تحفظ حقوق نسواں بل میں علما کمیٹی کی طرف سے چھ ترامیم کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کو غور کے لیئے بھیجا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بل کو مزید جامع بنانے کی کوشش کی جائے گی اور اس میں عورتوں پر تشدد، گھریلوں تشدد اور زبردستی شادی پر بھی قانون شامل کیا جائے گا۔

موجودہ حالات میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کی طرف سے تحفظ حقوق نسواں بل کو تیزی سے منظور کرانے کی کوشش فل الوقت کامیاب نہیں ہو رہی اور اسے مکمل اتفاق رائے کے لیئے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔

مخدوم علی خانترمیمی بل پرخدشات
حدود کےترمیمی بل پرخدشات برقرار
اسلامی یا غیراسلامی
حدود قوانین پر نظریاتی کونسل کا اجلاس
اسی بارے میں
حدود: مذاکرات تعطل کا شکار
15 September, 2006 | پاکستان
حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر
28 March, 2006 | پاکستان
حدود بل، کارروائی جمعرات کو
04 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد