’حدود بل پر پسپائی اختیار نہیں کی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ حکومت نے حدود آرڈیننس میں ترامیم کے مسئلہ پر پسپائی اختیار نہیں کی بلکہ اس مسئلے پر اتفاق رائے کے لیئے سیاسی جماعتوں سے صلاح مشورے جاری ہیں۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے منگل کے رات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور دیگر رہنماؤں سے ایک ملاقات میں حدود آرڈینینس میں ترامیم کے مسئلہ پر تفصیلی غور کیا۔ یہ ملاقات قومی اسمبلی کے اجلاس کو ایک روز قبل غیرمعینہ مدت کے لیئے ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد منعقد ہوئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے التوا سے ان ترامیم سے متعلق صورتحال غیریقینی ہوگئی تھی۔ ذرائع ابلاغ اور عوامی سطح پر حکومت کے خلوص کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے لگے تھے۔ متحدہ مجلس عمل نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بل کی منظوری پہلے امریکہ سے لی جائے گی۔
اس تاثر کی نفی کے لیئے وزیر اعظم نے بعد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس تاثر کی نفی کی کہ یہ ترامیم کسی ملک کے دباؤ میں تیار کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کا صدر پرویز مشرف کے دورہ امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ صدر نے بھی اس بل کو اطمینان سے مشورے کے ساتھ طے کرنے کے لیئے کہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایم ایم اے اور ایم کیو ایم کے ساتھ صلح مشورے کے نتیجے میں آئندہ اسمبلی اجلاس میں یہ بل پیش کر دیا جائے گا۔ اجلاس میں شجاعت حسین نے وزیر اعظم کو اتفاق رائے کے لیئے اب تک کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ادھر تحفظ حقوق نسواں بل کی منظوری میں تاخیر پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیر افگن بھی ناراض دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے کل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اب بل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں حدود بل کے خلاف خواتین کا مظاہرہ18 September, 2006 | پاکستان ’مشرف کو امریکہ کی منظوری چاہیے‘18 September, 2006 | پاکستان حدود آرڈیننس: سیاست سے بچانے کا عزم 17 September, 2006 | پاکستان شجاعت کی قاضی سے ملاقات16 September, 2006 | پاکستان حدود: مذاکرات تعطل کا شکار15 September, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: حدود مسودہ مسترد14 September, 2006 | پاکستان حکومت، اپوزیشن میں معاہدہ11 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||