BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 November, 2006, 20:06 GMT 01:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حقوق نسواں بل میں ترمیم

شیری رحمان
سرکاری جماعت جو ترمیم لارہی تھی اس میں ’زنا بالرضا‘ کو تعزیر میں لایا جا رہا تھا: شیری رحمان
پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کی سیلیکٹ کمیٹی کا تیار کردہ ’حقوق نسواں بل‘ کا مسودہ صرف ایک ترمیم کے ساتھ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں منظور کیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیری رحمان کا کہنا ہے کہ سرکاری جماعت کی جانب سے جو ایک ترمیم پیش کی گئی ہے اس کا تعلق مرد اور عورت کے درمیان باہمی رضا مندی سے جنسی تعلق کے بارے میں تھا۔

اس سال چار ستمبر کو قومی اسمبلی کی سیلیکٹ کمیٹی نے عورتوں کے حقوق کے تحفظ کا مسودہ قانون تیار کرکے اپنی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔ حکومتی پارٹی کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ سردار نصراللہ دریشک اس کمیٹی کے چیئرمین تھے۔

شیری رحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا سیلیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں بھی سرکاری جماعت پاکستان مسلم لیگ مرد اور عورت کے درمیان رضا مندی سے جنسی تعلق کے بارے میں ایک شق لانا چاہتی تھی لیکن اس وقت پیپلز پارٹی نے اسے مسودہ قانون میں شامل نہیں ہونے دیا تھا۔

شیری رحمان نے کہا کہ ان کی جماعت نے اس ترمیم میں تین چار ترامیم تجویز کیں، تاکہ اس شق کو زنا بالجبر کا شکار عورتوں کے خلاف استعمال نہ کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری جماعت جو ترمیم لارہی تھی اس میں ’زنا بالرضا‘ ک

تحفظ نسواں
 ہماری جماعت نے تین چار ترامیم تجویز کیں، تاکہ اس شق کو زنا بالجبر کا شکار عورتوں کے خلاف استعمال نہ کیا جاسکے۔
شیری رحمان
و تعزیر میں لایا جا رہا تھا، جس سے اس کے غلط استعمال کا خدشہ موجود تھا۔

شیری رحمان نے کے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جو ترامیم پیش کیں ان کے تحت رضا مندی سے کیے گئے جنسی فعل پر مقدمہ میں استغاثہ کے لیے دو گواہ پیش کرنے کی شرط کے ساتھ ساتھ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ملزم کی شخصی ضمانت پر رہائی بھی ممکن ہو۔

حکومت اور مجلس عمل کے درمیان مذاکرات کے بعد بنائی گئی علما کمیٹی نے زنا بالرضا کو تعزیر کے تحت قابل سزا جرم قرار دینے کی سفارش کی تھی، لیکن موجودہ منظور کیئے گئے قانون میں اسے فحاشی کے تحت قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے جبکہ فحاشی کی تعریف بھی تبدیل کردی گئی ہے۔

علماء کمیٹی نے سیلیکٹ کمیٹی والے مسودہ قانون میں پانچ ترامیم تجویز کی تھیں۔ ان میں سے ایک کا تعلق ’قذف آرڈیننس‘ میں ترمیم سے متعلق تھا۔

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’خواتین محاذ عمل‘ نے مجلس عمل اور حکومت کے درمیان طے پانے والے ترمیمی مسودہ قانون کو یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ یہ پہلے سے موجود حدود آرڈیننس سے بد تر ہوگا۔

جنرل ضیاالحق کے دور میں متعارف کرائے گئے حدود آرڈیننس میں کسی بھی ترمیم کی مخالف چھ جماعتی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے سیلیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں میں شرکت نہیں کی تھی۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان اور نیر بخاری نے سیلیکٹ کمیٹی میں پارٹی کی نمائندگی کی تھی۔

اسی بارے میں
حدود کا ترمیمی بل پاس
15 November, 2006 | پاکستان
ایم ایم اے: حدود مسودہ مسترد
14 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد