حدود بل: جب چاہے قابو کرلو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی نے تحفظ حقوق خواتین بل منظور کر لیا ہے اور اسے پرویز مشرف اور ان کے روشن خیال پاکستانی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اس بات کو نظر میں رکھتے ہوئے اور پھر پاکستان کے معروضی حالات کو بھی پوری طرح سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جانا چاہیئے کہ 1979 میں نافذ شدہ خواتین مخالف قانون میں اب 27 سال بعد تبدیلی کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ مگر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اکثر کارکنان اس تبدیلی سے آگے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے لیے صرف ترمیم کافی نہیں ہے وہ ضیا الحق کے قانون کا جڑ سے خاتمہ چاہتے ہیں۔ ویمن ایکشن فورم اور شرکت گاہ این جی او سے تعلق رکھنے والی محترمہ خاور ممتاز کہتی ہیں کہ ’ریلیف تو ریلیف ہوتا ہے۔ لیکن یہ ترامیم جن کی منظوری آج اسمبلی نے دی ہے ہماری آخری منزل نہیں ہے۔ ہم اس قانون سے مکمل چھٹکارا چاہتے ہیں‘۔ خاور ممتاز اپنے الفاظ میں اس نکتہ کا اعادہ کرتی سنائی دیتی ہیں جس نے پچھلے کچھ ماہ میں پاکستان کے روشن خیال حلقوں کو متحد کیے رکھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ایک قانون مکمل طور پر کالعدم قرار نہ دیا جائے، ترامیم کے باوجود اس کا essence موجود رہتا ہے۔ پاکستان میں روشن دماغ خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد کا یہی خیال ہے۔ کہیں یہ افراد گزشتہ 27 سال میں اس قانون کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں اور کہیں اپنی (campaign) کو عالمی سطح پر مروجہ اصولوں پر منظم کرتے ہیں۔ ان کے کام کرنے کا انداز چاہے جو بھی ہو اور وہ تمام اصحاب اکرام جو این جی اوز میں کام کرنے والوں سے ہمیشہ خفا رہتے ہیں چاہے جو بھی فتویٰ صادر کریں یہ بات طے ہے کہ (activism) میں پڑاؤ تو ہوتے ہیں، آخری منزل کوئی نہیں ہوتی۔ ہمارا کام این جی اورز کی وکالت کرنا نہیں ہے مگر یہ شاید کہنا ہی چاہیے کہ انہیں حکومت پہ اپنا دباؤ برقرار رکھنا چاہیے، رہی حکومت کے اقدامات کو سراہنے کی بات، تو اس کام کے لیئے ملک میں ہمارے جیسے بہت سے لوگ موجود ہیں جن کا خیال کہ موجودہ حالات میں جہاں جو تھوڑا بہت اچھا ہوا ہے، ہمیں اسے خوش آمدید کہنا چاہیے۔ خواتین کے تحفظ کے لیئے منظور شدہ بل بہرحال ایک مثبت قدم ہے یہ اور بات ہے کہ سیاست کے شیدائی اس موقع کو اپنے اپنے پوائنٹ سکور کرنے کے لیئے استعمال کرنا چاہیں گے۔ مثال کے طور پر یہ کیا کم مزیدار بات ہے کہ وہ لوگ جو 27 برس پہلے ضیاء کے ہر اول دستے میں شامل تھے آج جنرل مشرف کے جھنڈے تلے ایک روشن خیال پاکستان کے داعی و متمنی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا اس موقع پر حکومتی پارٹی کا ساتھ دینا بھی چٹ پٹی سیاست کے پیروکاروں کے لیئے ایک نہایت زبردست موضوع ہے۔ رہ گئی ایم ایم اے تو جہاں ملا کا عمل دخل پاکستان کی سیاست میں بڑھا ہے وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ مولویوں سے چھیڑ چھاڑ اب بھی ہمارے انتہائی پسندیدہ مشاغل میں سے ایک مشغلہ ہے۔ تو پھر مزا تو لازمی آئے گا۔ یہ بات بلا ہچکچاہٹ کہی جا سکتی ہے کہ مشرف حکومت کو پارلیمنٹ سے قانونی حیثیت دلوانے کی بحث کے بعد خواتین کے حقوق کا یہ بل دوسرا ایسا بڑا موقع تھا جب ایم ایم اے پارلیمنٹ میں حکومت کے روبرو تھی۔ پچھلی بار بھی ایم ایم اے نے جنرل مشرف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ پچھلی بار پی پی پی جنرل صاحب کی مخالفت میں بولی تھی۔ اب کہ اس کے الٹ ہوا۔ صاف ظاہر ہے کہ حکومت کے پاس 101 ایسے گر ہیں جو جب چاہے ’قابو‘ کرنے کے لیئے استعمال ہو سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’پاکستان فری سیکس زون بن جائےگا‘15 November, 2006 | پاکستان حدود کا ترمیمی بل پاس 15 November, 2006 | پاکستان بل کے کچھ اہم نکات 15 November, 2006 | پاکستان حدود ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش15 November, 2006 | پاکستان تحریک کی دھمکیاں، بل میں ترمیم14 November, 2006 | پاکستان حدود تنازعہ: آخری مراحل میں14 November, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||