’حقوق نسواں بل منظور نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عورتوں کے حقوق کے لیئے سرگرم خواتین محاذ عمل نے حکومت اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان طے پانے والے حدود آرڈیننس میں ترمیمی مسودہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تو بہتر ہے کہ حکومت پرانا حدود آرڈیننس ہی برقرار رکھے۔ عورتوں کے حقوق کے لیئے کام کرنے والی مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد خواتین محاذ عمل نے حدود آرڈیننس کے نفاذ پر پچیس سال پہلے اس کی مخالفت کا آغاز کیا تھا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواتین محاذ عمل کی رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت مجلس عمل کے ساتھ جو ترامیم طے کی ہیں ان سے حددو آرڈیننس میں مزید پیچدگیاں پیدا کردی گئی ہیں۔ محاذ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے ایم ایم اے سے سمجھوتہ کرکے کابینہ کمیٹی اور پارلیمانی سیلیکٹ کمیٹی کے فیصلوں کو نظر انداز کیا ہے اور آئینی اداروں جیسے اسلامی نظریاتی کونسل اور عورت کی حیثیت پر مستقل کمیشن کو بھی کمزور کردیا ہے۔ اس موقع پر عورتوں کے حقوق کی تنظیم شرکت گاہ کی خاور ممتاز نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے ایم ایم اے سے سمجھوتہ کرکے قومی اسمبلی کی سیلیکٹ کمیٹی کے مسودہ میں ترامیم کی ہیں جو جمہوری عمل کو پس پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے نے سیلیکٹ کمیٹی کا بائیکاٹ کیا تھا جہاں تمام پارلیمانی پارٹیوں کو نمائندگی دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی طریق کار میں جو پارٹی سیلیکٹ کمیٹی کا بائیکاٹ کرتی ہے وہ باہر ہی رہتی ہے لیکن حکومت نے اسے جھک کر منایا ہے۔
اس موقع پر انسانی حقوق کمیشن کی چئیر پرسن عاصمہ جہانگیر نے وضاحت کی کہ مجلس عمل اور حکومت کے سمجھوتہ کے نتیجہ میں سیلیکٹ کمیٹی کی منظور کردہ حقوق نسواں ترمیمی بل میں تین بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں خواتین کے حقوق کے خلاف ہیں اور ان سے عدالتی دائرہ کار کے تعین کی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ایم ایم اے اور حکومت کے درمیان طے پانے والے سمجھوتہ میں قذف (زنا کا جھوٹا الزام) کی شکایت مشکل تر بنا دی گئی ہے حالانکہ پہلے سے موجود حدود آرڈیننس میں بھی یہ مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو تبدیلیاں کی گئی ہیں ان میں مسودہ قانون میں ایک شق (تین) یہ شامل کی گئی ہیں کہ جج قران و سنت کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس شق کے نتیجہ میں ہر سیشن جج اور وفاقی شرعی عدالت کا جج قران و سنت کی اپنی اپنی تعبیر کرے گا اور بعض جج زیادہ سخت گیر اور ناقص تشریحات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جج ملاؤں کے دباؤ میں آکر کام کرنے پر مجبور ہوں گے جو لوگ ججوں کو ڈرانے کے لیئے ڈنڈے سوٹے لے کر آجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال موجود ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ سنگساری کی سزا اسلامی نہیں تو یہ لوگ جج کو ڈرانے دھمکانے کے لیے عدالت کے باہر جمع ہوگئے تھے۔ اس کے بعد قانون میں ترمیم کی گئی اور عدالت کے چیف جسٹس کو ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلیکٹ کمیٹی کے اصل ڈرافٹ میں زنا بالرضا کی سزا ختم کردی گئی تھی کیونکہ اس کا غلط استعمال ہوتا آیا ہے جس کے عملی مظاہرے ہم دیکھ چکے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ ترمیمی مسودہ قانون میں زنا بالجبر کی سزا حدود کے تحت اور زنا بالرضا کی سزا تعزیر کے تحت مقرر کردی گئی ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اگر کوئی شخص نچلی عدالت میں زنا کا اعتراف کرلے اور اس بنیاد پر اسے سزا ہوجائے لیکن وفاقی شرعی عدالت میں جاکر وہ اپنے اعتراف سے منکر ہوجائے تو وفاقی شرعی عدالت اسے تعزیر کے تحت سزا نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس شق کے تحت ملزم سزا سے بچ سکتا ہے اور وکیل چاہیں گے کہ ملزم اعتراف کرلے اور اس پر حد کے تحت ہی مقدمہ چلے تاکہ آگے چل کر اس کے بچ نکلنے کی راہ ہموار ہوجائے کیونکہ قانون میں کوئی ملزم جس مرحلہ پر چاہے اپنا اعتراف واپس لے سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل نعیم شاکر نے اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اختیار ہوگا کہ وہ زنا کا مقدمہ حدود کے قانون کے تحت درج کرے یا تعزیرات پاکستان کے تحت۔ وکیل نے کہا کہ حدود کے تحت درج مقدمہ میں زنا کی سزا کے لیے چار گواہ درکار ہوتے ہیں یا ملزم کا اعترافی بیان۔ دوسری طرف، تعزیرات کے تحت زنا کی سزا واقعاتی شواہد، طبی رپورٹ اور نشانہ بننے والی عورت کے بیان کے مطابق بھی دی جاسکتی ہے اور یہاں چار گواہ کی شرط لاگو نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ حدود کے تحت زنا کا مقدمہ کی سماعت سیشن جج کرتا ہے جبکہ تعزیر کے تحت زنا کے مقدمہ کی سماعت میجسٹریٹ کرتا ہے۔ حدود کے مقدمہ میں ٹرائل کروٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل وفاقی شرعی عدالت جائے گی جبکہ تعزیرات کے تحت کیے گئے فیصلہ کی اپیل متعلقہ ہائی کورٹ میں سنی جائے گی۔ وفاقی شرعی عدالت کو تزیرات پاکستان کے تحت فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ خواتین محاذ عمل نے بار بار اس نکتہ پر زور دیا کہ وہ حدود آرڈیننس کی مکمل منسوخ چاہتی ہے۔ تاہم اس نے مخصوص حالات میں سیلیکٹ کمیٹی کے مسودہ قانون کو قبول کیا تھا۔ خواتین محاذ عمل نے سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی سے اپیل کی کہ وہ حکومت اور ایم ایم اے کے درمیان سمجھوتہ کے تحت لائےجانے والے مسودہ قانون کو مسترد کردیں۔ | اسی بارے میں حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس 27 March, 2006 | پاکستان حدود آرڈینینس کی شکار خواتین20 April, 2006 | پاکستان حدود آرڈیننس کے حق میں مظاہرہ28 July, 2006 | پاکستان حدود قوانین کے ترمیمی بل پرہنگامہ22 August, 2006 | پاکستان حدود بل، کارروائی جمعرات کو04 September, 2006 | پاکستان حدود کےترمیمی بل پرخدشات برقرار05 September, 2006 | پاکستان حدود آرڈیننس پھر تبدیل13 September, 2006 | پاکستان حکومت، اپوزیشن میں معاہدہ11 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||