BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 August, 2006, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: ایم ایم اے کے خلاف مظاہرہ

مظاہرہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی
قومی اسمبلی میں خواتین کے حقوق کے متعلق مجوزہ بل کا مسودہ پھاڑنے کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جمعرات کے روز احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

متحدہ کا کہنا ہے کہ بل کے مسودہ میں اللہ تعالی اور رسول اللہ کے نام بھی تحریر تھے اس لیئے ایم ایم اے کے رہنماؤں اور اراکین نے اس مسودے کو پھاڑ کر توہین کی ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے جمعرات کی دوپہر کو احتجاجی مظاہرے کا انعقاد ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر کے سامنے کیا گیا جہاں ماضی میں مذہبی جماعتوں کی اتحاد ایم ایم اے کی جانب سے مظاہرے ہوتے رہے ہیں ۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے لندن سے مظاہرے میں شامل مردوں اور خواتین کو ٹیلیفون پر خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایم ایم اے میں شامل جماعتوں پر پابندی عائد کی جائے، ان کی رکنیت معطل کرکے توہین اللہ اور توہین پیغمبر کےمقدمات دائر کیئے جائیں۔

انہوں نے جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں انہیں نشان عبرت بنا دیتا کیونکہ ہمارے ملک کے آئین میں بھی اللہ اور رسول کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لئے کوئی معافی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں جو توہین کی گئی ہے ہم اس احتجاج کے ذریعے اپنے دلی اور روحانی جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

الطاف حسین نے الزام عائد کیا کہ نشتر پارک میں متحدہ مجلس عمل نے حملہ کرواکر درجنوں عاشقان رسول کو شہید کیا ہے۔

اس جلسے سے مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں شاہ سراج الحق،مولانا احتشام الحق، متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی پاکستان کے انچارک انور عالم اور عبدالحسیب نے بھی خطاب کیا۔

دریں اثنا وفاقی وزیر بابر غوری، شمیم صدیقی سمیت متدہ کے سولہ اراکین اسمبلی نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایک ریفرنس جمع کروایا ہے۔ جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایم ایم اے کے ان اراکین نے خواتین کے حقوق کے متعلق بل کو روندا ہے انہیں نااہل قرار دینے کے لئے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا جائے۔

دوسری جانب متحدہ مجلس عمل نے حدود آرڈیننس میں ترمیم کے خلاف پچیس اگست سے پانچ ستمبر تک ملک بھر میں احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
بحران ٹلا ہے ختم نہیں ہوا
03 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد