ایم کیوایم کا لاہور میں پہلا جلسہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کا جلسہ عام ہوا جسے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنی جماعت کا پنجاب میں پہلا بڑا جلسہ قرار دیا ہے۔ اس جلسے کے منتظیمین کراچی سے آئے تھے جبکہ سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ شرکاء کی زیادہ تعداد کراچی سے آئی تھی۔ الطاف حسین نے اپنے ایک گھنٹہ کے خطاب میں بالواسطہ طور پر پنجاب کی سب سے بڑی حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بار بار کہا کہ وہ چودھریوں وڈیروں اور خانوں کی بالادستی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اوکاڑہ کےملٹری فارم کے مزارعین کے حق میں بھی بات کی اور کہا کہ ان سے زمینیں نہ چھینی جائیں اور اگر یہ جگہ فوج کی ملکیت بھی ہے تو فوجیوں کو اس کی بجائے متبادل اراضی دیدی جائے۔ پاکستان کے یوم آزادی چودہ اگست سے ایک رات پہلے ہونے والے اس جلسہ عام میں ایم کیو ایم کے قائدین نے پنجابیوں کے دل جیتنے کی ہرممکن کوشش کی تھی اور جلسہ کے انتظامات مقامی رنگ اختیار کیے ہوئے تھے۔ ایک بڑے سٹیج کے پیچھے بنے بل بورڈ پر الطاف حسین کی جو بڑی سی تصویر لگی تھی اس میں انہیں پگڑی پہنائے دکھایا گیا تھا۔
خود الطاف حسین نے اپنی تقریر کے دوران چند جملے پنجابی میں ادا کیے، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کے شعر پڑھے اور لاہور کے اولیاء کرام داتا گنج بخش علی ہجویری، حضرت میاں میراور حضرت مادھولال حسین کا ذکر کیا۔ لاہور کے اخبارات میں ایک اس جلسہ گاہ کے بارے میں پہلے سے یہ خبریں شائع ہونا شروع ہوگئی تھیں کہ پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی لیکن پولیس صرف جلسہ گاہ سے باہر ہی نظر آئی۔ مینار پاکستان کے سائے تلے ہونے والے جلسہ گاہ کا تمام تر انتظام خود ایم کیو ایم کے لوگوں نے سنبھال رکھا تھا اور لوگوں سے مخاطب ہونے کا انداز صاف بتا رہا تھا کہ یہ لاہور یا پنجاب کے مقامی لوگ نہیں ہیں۔ باہر ٹریفک کنٹرول پر بھی الطاف حسین کی تصویر والی شرٹ پہنے کارکن کھڑے تھے جو ہر مخاطب کو بھائی کہہ کر بات شروع کرتے تھے۔ جلسہ کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے،ہر شخص کو جامہ تلاشی کے بعدمخصوص دروازوں سے اندر جانے کی تھی جبکہ اس کی فلم بھی بنائی جاتی۔ جلسہ گاہ سینکڑوں قمقوں سے روشن کی گئی اور جگہ جگہ ایم کیوایم کے جھنڈے پوسٹر اور بینر کے ساتھ ساتھ الطاف حسین کی تصاویر لگی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’پنجاب کے عوام نے مختلف پارٹیوں کے لیے قربانیاں تو دی ہیں لیکن اپنے حقوق کے لیے کبھی آواز بلند نہیں کی۔‘ ان کے بقول اب ان کی جماعت نہ صرف پنجاب کے عوام کی بلکہ تمام پاکستانیوں کے حقوق کی بات کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھٹہ مزدوروں کو ان کے حقوق دیئے جائیں اور پنجاب میں غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل بند کیا جائے۔ الطاف حسین نے کہا کہ وہ اقتدار میں آ کر ہندوستان اور اسلامی ممالک سے دوستانہ تعلقات پیدا کریں گے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں یہ عندیہ بھی دیا کہ آئندہ انتخابات میں ایم کیو ایم پنجاب میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔ قبل ازیں ایم کیو ایم کے ایک مرکزی رہنما فاروق ستار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ ایم کیو ایم نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان سے الیکشن لڑے گی‘۔ اس جلسہ گاہ میں چھ ہزار کے قریب کرسیاں بچھائی ئی تھیں جن میں سے کئی خالی تھیں۔ ایم کیو ایم کی رہنما نسرین جلیل جلسہ کے اختتام پر صحافیوں سے یہ پوچھتی رہیں کہ ان کے خیال میں جلسہ کیسا رہا لیکن جب خود ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں جلسہ کیسا تھا تو ان کا جواب تھا کہ ان کی توقع سے زیادہ کامیاب رہا۔ اور جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کراچی کے جلسوں میں بھی اتنے ہی لوگ ہوتے ہیں تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ نسرین جلیل سے جب ایک صحافی نے ان کا فون نمبر مانگا تو انہوں نے نمبر لکھوانے کے بعد کہا کہ ’کیا آپ کو علم ہے کہ میرا نام کیا ہے‘؟ ان کے اس جملے سے یہ تاثر ملا کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ شاید پنجاب کے لوگ ایم کیوایم کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے۔ متحدہ مجلس عمل پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ نے جلسے سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایم کیو ایم کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی سے آٹھ ہزار لوگ لاہور پہنچ چکے ہیں جنہیں حاجی کیمپ میں ٹہرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف اب ایم کیو ایم کو استعمال کرکے اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں لیکن پنجاب اور اس ملک کے عوام ان کے بقول اس سازش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں حالیہ چند ایک برس کے دوران ہونے والےجلسوں سے موازانہ کیا جائے تو ایم کیو ایم کا جلسہ عوام کی شرکت کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں رکھتا البتہ اس جلسہ میں مقامی لوگوں کی شمولیت کس حد تک تھی اس نکتہ پر سوال ضرور اٹھیں گے۔ پاکستان کے یوم آزادی سے ایک رات پہلے لاہور کے جس مقام (مینار پاکستان) پر ایم کیو ایم کا جلسہ ہوا ہے وہیں ایک روز بعد یعنی چودہ اگست کو اپوزیشن کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کا جلسہ ہوگا جس میں مجلس عمل کے اعلان کے مطابق اپوزیشن کے بڑے اتحاد اے آر ڈی کی جماعتیں بھی شریک ہونگی۔ | اسی بارے میں الطاف: کارکنوں کو تیاری کی ہدایت14 January, 2005 | پاکستان مرکزی حکومت کو متحدہ کی دھمکی08 January, 2006 | پاکستان ایم ایم اے، ایم کیوایم ایک ساتھ 15 January, 2006 | پاکستان باجوڑ: ایم کیو ایم بھی ہڑتال کرے گی15 January, 2006 | پاکستان سندھ حکومت میں اختلافات 16 January, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس کراچی سے روانہ17 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||