BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 July, 2006, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ حکومت اختلافات کا شکار

ایم کیو ایم
ایم کیو ایم وفاقی اور سندھ حکومت میں شریک ہے
سندھ کی صوبائی حکومت ایک مرتبہ پھر اختلافات کا شکار ہوگئی ہے اور حکومت کی اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے وفاقی اور صوبائی وزراء اور معاونین نے اپنے استعفے جماعت کی رابطہ کمیٹی کے پاس جمع کروا دیئے ہیں۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق نے عزیز آباد میں واقع تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں ایک ٹیلی فونک پریس کانفرنس میں بتایا کہ رابطہ کمیٹی کا ایک اور اجلاس جاری ہے جس میں استعفے پیش کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ رابطہ کمیٹی کا گزشتہ رات بھی اجلاس ہوا تھا اور استعفے لینے کا فیصلہ جمعرات کے روز تمام اراکینِ صوبائی اور قومی اسمبلی، تمام وزراء مشیروں اور معاونین کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ کے تمام وفاقی اور صوبائی وزراء، مشیروں اور معاونین کے محکموں سے استعفے اس وقت رابطہ کمیٹی کے پاس ہیں جس کے بارے میں دوسرے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائےگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور سینٹ کے اراکین سے استعفے لینے کی کوئی تجویز زیرِغور نہیں ہے اور نہ ہی گورنر سندھ سے استعفیٰ لیا جا رہا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا استعفے لینے کا فیصلہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو تبدیل نہ کرنے کے بیان کے ردعمل میں کیا گیا ہے تو انہوں کہا کہ’یہ فیصلہ کسی ریمارکس کے ردعمل میں نہیں کیا گیا ہے‘۔

ایم کیو ایم کے وزراء اور وزیراعلٰی سندھ کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے

ڈاکٹر عمران فاروق نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے تاہم
اسلام آباد سے کچھ حکام نے رابطے کیئے ہیں جنہیں رابطہ کمیٹی کے فیصلے اور صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔

اختلافات کی نوعیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جو بھی معاملات ہیں وہ ذاتی نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ عوام کے فلاح و بہبود اور ترقی کے حوالے سے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہ معاملات ہیں جن پر پہلے بھی اختلاف پیدا ہوئے تھے اور اس وقت بھی وہ ہی صورتحال چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ کے وزراء عوام کی خدمت نہیں کر پا رہے اور جب عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے تو پھر ان وزارتوں کا کیا فائدہ۔ انہوں نے کہا کہ’ہمارے وزراء کی سمریاں منظور نہیں ہوتیں، وزارتوں میں مداخلت کی جاتی ہے اور کوئی مشورہ نہیں لیا جاتا‘۔متحدہ کے رہنما نے کہا کہ کسی بھی بڑے فیصلے میں ایم کیوایم کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔

واضح رہے کہ ارباب غلام رحیم پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ حکمران جماعت مسلم لیگ(ق) کے اراکین کا دباؤ ہےاور کچھ ناراض وزراء اور اراکین صدر مشرف سے بھی ان کی شکایت کر چکے ہیں جس کے بعد صدر مشرف نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ آئندہ انتخابات تک نہ تو وزیر اعظم کو تبدیل کیا جائے گا اور نہ ہی وزیرِاعلٰی بدلے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد