BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 June, 2006, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ

قاضی حسین احمد
پریس کانفرنس میں حافظ حسین احمد کے سوا کسی بڑی سیاسی جماعت کا کوئی سرکردہ رہنما نظر نہیں آیا
پاکستان میں حزب مخالف کے دو بڑے اتحادوں ’اتحاد برائے بحالی جمہوریت‘ اور ’متحدہ مجلس عمل‘ سمیت مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ سندھ کی حکومت کراچی میں قتل عام روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور اُسے فوری طور پر برطرف کیا جائے۔

یہ مطالبہ سنیچر کے روز جماعت اسلامی کی میزبانی میں کراچی کے اندر دہشت گردی اور بدامنی کے متعلق کل جماعتی کانفرنس کے شرکاء نے ایک مشترکہ بیان میں کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، جمیعت علما اسلام (فضل الرحمٰن) اور دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندے کانفرنس میں شریک ہوئے۔

جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے نیوز بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار برسوں میں کراچی شہر کے اندر ساڑھے چھ سو سے زائد سیاسی اور مذہبی رہنماؤں، کارکنوں، علما، صحافیوں اور سیکورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو چن چن کر ہلاک کیا گیا۔

ا

الزامات مسترد
 جو جماعتیں عوام میں اپنی ساکھ کھوچکی ہیں وہ ایم کیو ایم کی جماعت کی مقبولیت سے پریشان ہوکر ان پر الزامات لگا رہی ہیں
فاروق ستار
نہوں نے سانحہ نشتر پارک سمیت مختلف واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قتل کی بیشتر وارداتوں میں لسانی جماعت متحدہ قومی موومنٹ یعنی ’ایم کیو ایم‘ ملوث ہے۔

قاضی حسین احمد نے کراچی میں کچی بستیاں اور قدیمی گوٹھ گرانے اور مبینہ طور پر بھتہ خوری کے الزامات بھی ایم کیو ایم پر لگائے اور کہا کہ الطاف حسین کو حکومت انٹر پول کے ذریعے واپس لاکر ان پر مقدمات چلائے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اعداد وشمار کہاں سے حاصل کیے ہیں اور ایم کیو ایم پر سنگیں الزام کس بنا پر لگا رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ اعداد وشمار حکومت کے فراہم کردہ ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ سندھ حکومت کے وزراء کی سرپرستی میں قتل و غارت گری اور بھتہ خوری میں ایم کیو ایم ملوث ہے۔

کانفرنس کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اپنی فوجی حکومت کو دوام بخشنے کی خاطر ایم کیو ایم کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی کے پولیس تھانے لسانی جماعت کے یونٹ بنے ہوئے ہیں۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر معراج الہدیٰ نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ کراچی میں گزشتہ ایک ہفتے کے اندر سینتالیس افراد قتل اور ساڑھے سات سو ڈکیتیاں ہوچکی ہیں۔

کانفرنس کے شرکاء نے کراچی میں بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ سے عوام کو لاحق پریشانی اور کاروبار متاثر ہونے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت اپنے فرائص ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

جماعت اسلامی کی کانفرنس میں شریک تو بیشتر جماعتوں کے نمائندے ہوئے لیکن پریس کانفرنس میں حافظ حسین احمد کے سوا کسی بڑی سیاسی جماعت کا کوئی سرکردہ رہنما نظر نہیں آیا۔

جب سنگین الزامات کے سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر فاروق ستار سے رابطہ کیا تو انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعتیں عوام میں اپنی ساکھ کھوچکی ہیں وہ ان کی جماعت کی مقبولیت سے پریشان ہوکر ان پر الزامات لگا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
فارورڈ گروپ کودھمکی
19 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد