BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 April, 2006, 15:46 GMT 20:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ

جنازے
سنی تحریک کے رہنماؤں کی نماز جنازہ یں ہزارہا کارکنوں نے شرکت کی
کراچی میں نشتر پارک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے سنی تحریک کے رہنماؤں کی نماز جنازہ ایم اے جناح روڈ پر ادا کی گئی۔


نماز جنازہ سے قبل کارکن سندھ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ اور متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے رہنماؤں کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے سنی تحریک کے ہزاروں کی تعداد میں کارکن جمع تھے۔

سنی تحریک کے رہنما عباس قادری، افتخار بھٹی، ڈاکٹر عبدالقدیر کی تدفین ایم اے جناح روڈ پر واقع کاظم شاہ مزار کے احاطے میں جبکہ اکرم قادری کی تدفین نیو کراچی کے قبرستان میں کی گئی۔

سندھ کی تمام اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور نواز لیگ کے رہنماؤں نےنماز جنازہ میں شرکت کی۔

کراچی کی مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر جگہ جگہ حکومت مخالف چاکنگ کی گئی تھی۔

سنی تحریک کے ذرائع کے مطابق عباس قادری کی میت کے ساتھ ایدھی فاؤنڈیشن کے عبدالستار ایدھی بھی خود آئے تھے۔

سنی تحریک کے ترجمان شہزاد منیر کے مطابق نماز جنازہ میں سکیورٹی وجوہات کی بناء پر پہلے فرضی جنازے لائے گئےاور بعد میں چار ایمبولینسوں میں اصل میتیں لائی گئیں۔

ترجمان کے مطابق نماز جنازہ کے دوران کسی قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولیس نے سنی تحریک کے ڈھائی سو کے قریب کارکنوں کو سکیورٹی پاس جاری کیے تھے۔ جنازے کے شرکاء نے مقتول سنی رہنما عباس قادری کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

کارکن حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے

یاد رہے کہ بدھ کی شام کراچی میں عیدِ میلاد النبی کے ایک بڑے اجتماع میں بم دھماکے سے سینتالیس افراد ہلاک اور اکاسی زخمی ہوگئے تھے۔ اس دھماکے میں سنی تحریک کی مرکزی قیادت کے کم وبیش تمام لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل امن و امان کی صورتِ حال کے پیشِ نظر فوج طلب کر لی گئی تھی جو شہر کے حساس مقامات گشت شروع کر چکی ہے۔ حساس مقامات کی نشاندہی صوبائی حکومت نے کی ہے۔ تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ فوج کی کتنی نفری طلب کی گئی۔

ادھر دھماکے کے تیسرے دن بھی شہر میں کاروبار زندگی معطل رہا۔ شہر کے
اہم تجارتی مرکز اور بازار بند تھے اور اکثر علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی
آمدو رفت معطل تھی۔

سہراب گوٹھ پر ہنگامہ آرائی اور پتھراؤ کے بعد سپر ہائی وے سے اندرون ملک جانے والی اور کراچی آنے والی ٹریفک بھی کم تھی جبکہ ایم اے جناح روڈ اور بوہرہ پیر اور رسالہ کے علاقوں میں چھ گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

اسی بارے میں
یہ کِس کا سر ہے؟
12 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد