اسمبلی برطرف کرو، پی پی پی کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور اسمبلیبوں کو برطرف کیا جائے کیونکہ کالا باغ ڈیم پر صوبوں اور مرکز میں تنازعے کے بعد یہ ہی واحد آئینی راستہ بچا ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء بابر اعوان نے منگل کے روز کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 58 ٹو بی میں یہ واضح ہے کہ اگر صوبوں اور مرکز میں تنازعہ حل نہ ہوسکے تو اسمبلیوں کو برطرف کیا جائیگا۔ اسی شق کو موجودہ حکومت نے ہی ایل ایف او کے تحت بحال کیا ہے ، اب آئینی تقاضا پورے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ کالاباغ ڈیم کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائےگا۔ مگر سپریم کورٹ کسی ایکٹ آف پارلیمینٹ کو رد یا مسترد نہیں کرسکتی۔ سپریم کورٹ نواب زادہ نصراللہ بنام نواز شریف کیس میں یہ واضح کرچکی ہے۔ بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عدالت عوامی فیصلے کے خلاف کوئی فیصلہ صادر نہیں کرسکتی مگر موجودہ حکومت عدلیہ اور عوام کو لڑانا چاہتی ہے۔ حکمران چاہتے ہیں کہ ’عوام گلی گلی میں آئین کی کتاب پھاڑیں۔‘ کالاباغ ڈیم کے پس منظر کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں کہا کہ ایوب خان کے دور حکومت میں دو ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس میں ایک خان پور اور دوسرا کالاباغ ڈیم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ڈیم بنانے کا فیصلہ سیاسی انتقام کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ بابر اعوان کے مطابق خان پور میں ایوب خان کے قبیلے کا مخالف قبیلہ آباد تھا۔ جس کو وہ ڈبونا چاہتا تھے۔ جبکہ کالاباغ ڈیم بنانے کا فیصلہ کالاباغ کے نواب کی ایوب کی مخالفت کے باعث کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’وفاق کو ایک بند گلی میں بند کردیا گیا ہے۔ جس کا ایک راستہ یہ ہے کہ اسمبلیاں توڑ کر حکومت کو حقیقی عوامی نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔‘ ’دوسرا راستہ وہ ہے جو حکمران پارٹی کے سربراہ نے آرمی چیف اور صدر پاکستان کے سامنے کہا تھا یعنی سندھ کی آزادی جسے ہم کبھی قبول نہیں کرینگے۔‘ | اسی بارے میں ’آئینی ضمانت کے سوا سب منظور‘23 December, 2005 | پاکستان کراچی میں قوم پرستوں کی ریلی22 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم، سندھی میڈیا اور اشتہارات 20 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: کالا باغ ڈیم پر تقسیم 17 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||