اپوزیشن نےحکومتی سیٹ جیت لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں سینیٹ کی گیارہ نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں حکمران اتحاد نے چھ اور اپوزیشن نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ پیر کے روز دو خواتین، دو ٹیکنو کریٹس اور سات عام نشستوں پر انتخابات ہوئے۔ سینیٹ کے ان انتخابات کے لیئے پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل نے اتحاد کیا تھا۔ جس کے پانچوں امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔اپوزیشن اپنی حکمت عملی سے گزشتہ سیٹ اپ کے مقابلے میں ایک اضافی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ سندھ کی سات جنرل نشستوں پر پی پی پی کے رضا ربانی، صفدر عباسی، ایم ایم اے کے خالد محمود سومرو، متحدہ قومی موومنٹ کے احمد علی، طاہر حسین مشہدی، مسلم لیگ( ق) کے غفار قریشی اور فنکشنل لیگ کے عبدالرزاق تھہیم کامیاب ہوئے ہیں۔ خواتین کی دونشستوں پر پی پی پی کی رتنا چاولہ اور مسلم لیگ (ق) کی سیمی صدیقی نے کامیابی حاصل کی۔ اس طرح ٹیکنوکریٹس کی دو نشستوں پر پی پی پی کے جاوید لغاری اور ایم کیو ایم کے عبدالخالق کامیاب ہوئے ہیں۔ موجودہ انتخابات میں پی پی پی نے چار، ایم ایم اے ایک،ایم کیو ایم تین ، مسلم لیگ ق دو اور فنکشنل لیگ ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس طرح ایم ایم اے نے ایم کیو ایم سے ایک نشست جیت لی ہے۔ سندھ اسمبلی کے ایک سو اڑسٹھ کے ایوان میں پی پی کے اٹھاون، ایم ایم اے کے آٹھ اور ایم کیو ایم کے بیالیس ممبران ہیں۔ سینٹ کے انتخابات میں متحدہ کی ایک ممبر شمائلہ غیر حاضر رہیں۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن کے پانچوں امیدواروں کی کامیابی کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ’ ہم سڑسٹھ ممبران ہیں اور ہم نے اپنی قوت کے مطابق امیدوار کھڑے کیئے تھے اور ہمارا اتحاد کارگر رہا ہے‘۔ اپوزیشن رہنما نے بتایا کہ’ہم ہارس ٹریڈنگ میں یقین نہیں رکھتے ہیں مگر حکمران اس کے پیروکار ہیں اس لیئے انہوں نے اپنی قوت سے زیادہ امیدوار کھڑے کیئے تھے جس کے لیئے وزیرِاعلیٰٰ ہاؤس ایسی مشق کرتا رہا مگر ہمارے ممبران نے ان مقابلہ کیا‘۔ سینیٹ سے پی پی پی کے رضا ربانی، صفدر عباسی، لطیف انصاری اور عبداللہ ریاڑ، متحدہ قومی موومنٹ کے احمد علی، پروفیسر سعید صدیقی، عابدہ سیف اور نگہت مرزا، مسلم لیگ (ق) کے حفیظ شیخ اور تنویر خالد اور فنکشنل لیگ کے عبدالرزاق تھہیم ریٹائر ہوئے تھے۔ اس سے قبل پیر کی دوپہر کو پولنگ اسٹیشن کے باہر جیسے ہی سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے اپوزیشن ممبران کی تلاشی لینا چاہی تو ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔اس دوران تین ارکان آصف شاہ، عرفان شاہ اور مکیش کمار کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خواتین ممبر شمع مٹھانی کا الزام تھا کہ ان کے پرس چیک کیئے جا رہے ہیں اور جسمانی تلاشی بھی لی گئی ہے۔ پی پی پی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اپوزیشن ممبران نے جب سادہ کپڑوں میں ملبوس تلاشی لینے والوں سے پوچھا کہ آپ کون ہیں تو انہوں نے بدتمیزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے خود صورتحال خراب کی۔ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ’اگر حکومت اور اس کے اتحادیوں میں اختلاف ہے اور وہ بحران کا شکار ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ ہمارے ارکان کو کیوں ہراساں کیا جا رہا ہے‘۔ | اسی بارے میں سینیٹ انتخاب: صحافیوں کا احتجاج06 March, 2006 | پاکستان سینٹ قرعہ اندازی: کس نے کیا کھویا، کیا پایا03 January, 2006 | پاکستان وزراء سمیت آدھی سینٹ ریٹائر02 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||