BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 January, 2006, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزراء سمیت آدھی سینٹ ریٹائر

رضا ربانی
قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی اب سینٹر نہیں رہے ہیں۔
پاکستان کے ایوان بالا سینٹ کے نصف ارکان آج قرعہ اندازی کے ذریعے ریٹائر ہو گئے جبکہ بقیہ ارکان چھ سال کی مدت پوری کریں گے۔یہ قرعہ اندازی آئین کے تحت سینٹ کے انتخاب کے لیے دی گئی شق کے مطابق کی گئی۔

ریٹائر ہونے والے سینیٹروں میں کئی وفاقی وزرا بھی شامل ہیں جن کو اب وزارت چھوڑنی پڑے گی۔ جبکہ سینٹ کے قائد ایوان وسیم سجاد اور قائد حزب اختلاف بھی ریٹائر ہونے والے سینیٹروں میں شامل ہیں۔

جبکہ سینیٹ کے چیئرمین میاں محمد سومرو مزید تین سال سینٹ میں رہیں گے۔

آج سینیٹ کے کمیٹی روم نمبر دو میں ہونے والی اس قرعہ اندازی کا ماحول بالکل کسی سکول کے ماحول کی طرح لگ رہا تھا جس میں طالبعلم امتحان کے حتمی نتائج سے پہلے شدید اضطرابی کیفیت کا شکار نظر آئے ہیں۔

قرعہ اندازی کا آغاز ہوتے ہی جہاں کچھ ارکان نے آیتوں کا ورد کرنا شروع کیا تو کچھ ارکان آپس میں خوش گپیاں کر کے اس قرعہ اندازی کے وقت اپنی اضطرابی کیفیت کو چھپانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

ریٹائر ہونے والے وزرا میں وزیر تعلیم جنرل جاوید اشرف قاضی،وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی اور محنت و افرادی قوت طارق عظیم، وزیر نجکاری عبدالحفیظ شیخ، وزیر بلدیات جسٹس عبدالرزاق تھہیم، وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم،وزیر مملکت برائے ثقافت و امور نوجوانان محمد علی درانی اور وزیر سیاحت محمد اجمل شامل ہیں۔

جبکہ حزب اختلاف کے سرکردہ سینیٹرز کو بھی اس قرعہ اندازی نے ایوان سے باہر کر دیا۔ ریٹائر ہونے والوں میں سینیٹ کے قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی، مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر اسحق ڈار، متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر پروفیسر خورشید، پروفیسر غفور،فرحت اللہ بابر، صفدر عباسی اور دیگر شامل ہیں۔

اس قرعہ اندازی سے بظاہر حکومت کو سیاسی فائدہ پہنچتا نظر آتا ہے اور شاید حکومت اس برس مارچ میں سینیٹ کے نصف نئے ارکان کے لیے ہونے والے انتخابات میں سینٹ میں پہلے سے بہتر اکثریت حاصل کر لے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات انیسہ زیب طاہر خیلی نے قرعہ اندازی کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس قرعہ اندازی کے بعد بہتر پوزیشن میں آگئی ہے

جبکہ حزب اختلاف کے مطابق اس قرعہ اندازی میں صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچا ہے مگر کوشش ہو گی کہ نئے انتخابات میں حزب اختلاف اپنی کھوئی ہوئی نشستیں واپس جیت لے۔

الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی ہونے والی اس قرعہ اندازی کو حکومت اور حزب اختلاف نے شفاف قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملک میں جمہویت کو فائدہ ہو گا کیونکہ ارکان کے انتخاب کے لئے آئین کے مطابق طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ اس موقع پر قائم مقام چیف الیکشن جسٹس عبدالحمید ڈوگر بھی موجود تھے جنہوں نے اس سارے عمل کی خود نگرانی کی۔

پاکستان کے آئین کے تحت سینیٹ کو توڑا نہیں جا سکتا مگر انیس سو ننانوے میں نواز شریف حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سینیٹ کو بھی برطرف کر دیا گیا تھا۔ سن دو ہزار دو میں انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی سینیٹ کے قوائد و ضوابط کے مطابق سینیٹ کے ہر رکن کی مدت چھ برس ہوتی ہے اور ہر تین برس کے بعد ایوان کے نصف ارکان مستعفی ہو جاتے ہیں۔اسی سلسلے میں آج یہ قرعہ اندازی کی گئی ہے تاکہ سینیٹ کے پچاس یا نصف ارکان مستعفی ہو جائیں اور نئے سینیٹرز کا انتخاب کیا جا سکے۔

نئے ارکان کا انتخاب اس برس مارچ کے پہلے ہفتے میں کیا جائے گا اور اس الیکشن کا شیڈول اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں جاری کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
ایم ایم اے پھر جیت گئی
19 April, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد